سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
طریقے سے فریادکاسلسلہ شروع کیا،اوریوں کہنے لگے کہ ہمارے گھربار ٗہمارے جانور اور مویشی ٗ ہمارے اموال واسباب …سبھی کچھ لُٹ گیا…اب ہمارا کیابنے گا…؟ ہم پررحم کیاجائے…اگرقیصریاکسریٰ کے سامنے ہم اس طرح گڑگڑاتے اوروہ لوگ ہماری یہ حالتِ زاردیکھتے …تووہ بھی ہمیں ہرگزخالی ہاتھ نہ لوٹاتے…توپھرآپ کوتواللہ نے اخلاقِ فاضلہ میں سب سے ممتازفرمایاہے…لہٰذاہمیں خالی ہاتھ نہ لوٹائیے گا…‘‘ ان کی یہ فریاداوریہ گریہ وزاری دیکھ کررسول اللہﷺکیلئے انہیں خالی ہاتھ لوٹانابہت مشکل ہوگیا…چنانچہ آپؐنے انہیں بھی بہت کچھ عطاء فرمادیا…! اورپھروقت نے یہ ثابت کیاکہ آپؐ نے اس بصیرت اورفراست کی بناء پرانہیں خالی ہاتھ نہ لوٹانے کاجومدبرانہ فیصلہ فرمایاتھا ٗوہ بہت ہی مفیدثابت ہوا اوراس کے مثبت نتائج فوری طورپرہی ظاہرہونے لگے …چنانچہ آپؐکی اس سخاوت وفیاضی اورخوش اخلاقی سے متأثر ہوکریہ بڑے بڑے سرداراوررؤساء قسم کے لوگ بڑی تعدادمیں مسلمان ہوگئے،اورچونکہ اپنی اپنی قوم میں اوراپنے علاقے میں ان کابہت زیادہ اثرورسوخ تھا…لہٰذاان کے قبولِ اسلام کے بعداب ان کی قوم کے افرادبھی فوج درفوج مسلمان ہونے لگے اوریوں بڑی سرعت کے ساتھ وہاں دینِ برحق کی نشرواشاعت ہونے لگی۔ اوریہ بھی اس بات کاواضح اورقطعی ثبوت تھاکہ رسول اللہﷺکی طرف سے ان لوگوں کے اصل مرض کی تشخیص بالکل درست تھی …اورپھرآپؐ کی طرف سے ان کیلئے جو’’علاج‘‘ تجویزکیاگیاوہ بھی انتہائی مفیدومؤثراورتیربہدف ثابت ہوا…! ٭…لیکن اس بہت بڑی کامیابی کے ساتھ ساتھ اس موقع پررسول اللہﷺکیلئے ایک بہت بڑی آزمائش بھی پیش آئی جوکہ بڑی نفسیاتی کشمکش کاسبب بھی بنی،شایداس انتہائی