سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
جوکچھ مال ودولت یہ مانگتے ہیں ٗ انہیں دے دیاجائے ،تاکہ اس’’دلجوئی‘‘کے ذریعے ابتدائی طورپران کے دلوں میں کسی نہ کسی درجے میں دینِ اسلام کے ساتھ تعلق اور ’’وابستگی‘‘پیداکی جاسکے…! چنانچہ وقت نے ثابت کیاکہ آپؐ کی طرف سے تجویزفرمودہ یہ علاج انتہائی کارگرثابت ہوا، یہ لوگ آپﷺکے اس حسنِ سلوک اورفیاضی سے انتہائی متأثرہوئے …جس کے نتیجے میں باہمی میل جول کے سلسلے بڑھے تورفتہ رفتہ ان کے دلوں میں ایمان بھی راسخ ہونے لگا…اورآخرآئندہ چل کریہ لوگ اچھے اورسچے مسلمان ثابت ہوئے۔ ٭…’’طلقاء‘‘میں مالِ غنیمت کی بڑے پیمانے پرتقسیم کے علاوہ اُسی موقع پرایک اوربڑی عجیب وغریب اورغیرمتوقع قسم کی صورتِ حال یہ پیش آگئی کہ یہ ہوازن اورثقیف والے جنگجوجن کے چھوٹے بڑے قبائل بڑی تعدادمیں طائف اورمکہ کے مابین پھیلے ہوئے تھے…اورجوکہ اس جنگ اوراس کے نتیجے میں پیداہونے والی تمامترمشکلات ومصائب کے اصل ذمہ دارتھے…مالِ غنیمت کی تقسیم کے موقع پرجب رسول اللہﷺنے مخصوص مصلحت کی بناء پر’’طلقاء‘‘کوبہت کچھ عطاء فرمایا…تواس کانتیجہ یہ نکلاکہ اب انہی قبائل ’’ہوازن ‘‘اور’’ثقیف‘‘کے (یعنی طائف والوں کے)بڑے بڑے سرداربھی بڑی تعداد میں آپہنچے،انہی سرداروں میں رسول اللہﷺکارضاعی چچا’’ابوبرقان‘‘بھی موجودتھا(۱) ان لوگوں نے رسول اللہﷺکے سامنے بڑے زوروشورکے ساتھ… اورانتہائی دردانگیز ------------------------------ (۱) رسول اللہ ﷺکی رضاعی والدہ حلیمہ سعدیہ کاتعلق قبیلہ’’بنوسعد‘‘سے تھااوراسی نسبت کی وجہ سے انہیں ’’سعدیہ‘‘کہاجاتاتھا،اوریہ قبیلہ بنوسعد دراصل اسی بڑے قبیلے’’ہوازن‘‘ہی کاذیلی قبیلہ تھا،لہٰذا’’بنوسعد‘‘والے بھی ’’ہوازن‘‘ہی کے ایک جزء کے طورپرمسلمانوں کے خلاف لڑی جانے والی اس جنگ میں شامل تھے۔