سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
ہاتھوںان طائف والوں کوانتہائی بدترین اوررُسواکن شکست وہزیمت سے دوچار ہونا پڑا، ان کے بڑے بڑے اورنامورقسم کے سرداروں میں سے سترمارئے گئے،بہت سے قیدی بنائے گئے ،جبکہ عام سپاہیوں میں سے چھ ہزارکوقیدی بنایالیاگیا،نیزچونکہ اس جنگ کے موقع پراپنے جوشیلے سپہ سالارکے حکم کی تعمیل میں یہ لوگ اپنے بیوی بچے اورمویشی وغیرہ سبھی کچھ بہت بڑی مقدارمیں ہمراہ لائے تھے ،اس لئے بڑی مقدارمیں مختلف قسم کامال ومتاع ٗ سوناچاندی ٗ نیزچوبیس ہزاراونٹ اورچالیس ہزاربکریاں بطورِ’’مالِ غنیمت‘‘مسلمانوں کے ہاتھ لگیں۔ ٭…جنگ ختم ہونے کے بعدرسول اللہﷺنے مالِ غنیمت کی تقسیم فوری شروع نہیں کی،بلکہ چنددن انتظارفرمایاکہ شایدیہ ’’طلقاء‘‘واپس آجائیں اوراپنے بھاگ کھڑے ہونے پرمعذرت کریں…لیکن وہ نہ آئے…اورپھرجب آپؐنے تقسیم کاکام شروع فرمایا…تب یہ لوگ فوراًہی موقع پرپہنچ گئے …اورخوب زوروشورکے ساتھ مانگنے لگے…اوران کے اس نامناسب رویے کے باوجودآپؐ ان کے مطالبات کے جواب میں انہیں بہت کچھ عطاء فرماتے رہے… دراصل آپؐ کی مثال کسی ماہرترین معالج اورنبض شناس کی مانندتھی کہ جوپہلے خوب مہارت کے ساتھ مرض کی تشخیص کرتاہے،اورپھرخوب کارگراورمؤثرقسم کاعلاج تجویزکرتاہے… آپؐکوان کے مرض کے بارے میں خوب علم تھا…آپؐاس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے کہ انہوں نے ابتک اپنی تمام عمردنیاکے حقیرمال ودولت پرلپکنے اورجھپٹنے میں گذاری ہے…بس یہی ان کاسب سے بڑاروگ ہے…لہٰذاآپؐ ان کیلئے کارگراورمؤثرترین علاج سے بھی بخوبی واقف تھے…اوروہ علاج یہ تھاکہ فی الحال ان کی تألیفِ قلب کیلئے