سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
ایسی صورت ممکن نہیں تھی کہ مسلمانوں اورمشرکینِ مکہ کے مابین یوں آزادانہ میل جول ہوسکے…لیکن اب فتحِ مکہ کے فوری بعدصورتِ حال ایسی بن گئی تھی کہ حالات نے اب ان سب کویکجاکردیاتھا،لہٰذاان کینہ پرورمشرکین کیلئے انتقام کی آگ بجھانے کایہ نادرموقع تھا…اوراپنے اسی ناپاک مقصدکی تکمیل کے ارادے سے یہ لوگ ہمراہ ہولئے تھے کہ جب جنگ عروج پرہوگی…ہرطرف افراتفری ہوگی…کسی کوکسی کاہوش نہیں ہوگا… ایسے میں موقع پاکرہم اس ’’فلاں‘‘کوٹھکانے لگادیں گے…! ٭…اورپھرجب تنگ وتاریک پہاڑی راستوں میں چھپے ہوئے ان انتہائی ماہراور نشانے بازتیراندازوں کی طرف سے تیروں کی زبردست بوچھاڑکاسلسلہ شروع ہوا… توایسے میں سب سے پہلے یہی ’’طلقاء‘‘پیٹھ پھیرکربھاگے…اوراس طرح غیرمنظم طریقے سے بھاگے کہ باقی صفوں کوبھی خراب کیا…جوراستے میں آیااُسے روندڈالا…یوںیہ لوگ انتہائی بدنظمی اورافراتفری کا سبب بنے،تمام لشکرمیں گڑبڑانہی کی وجہ سے پھیلی اوربھگدڑانہوں نے ہی مچائی… اورپھرجب رسول اللہﷺنے ٗ بآوازِبلندباربارپکارا…نیزحضرت عباس رضی اللہ عنہ بھی باربارپکارتے رہے …تب مخلص لوگ تواس پکارپر’’لبیک…لبیک‘‘کی صدائیں بلندکرتے ہوئے دیوانہ واروہاں حاضرہوگئے…جبکہ یہ ’طلقاء‘‘یہ پکارسن کربھی نہیں پلٹے …اورمستقل میدان چھوڑکرہی بھاگ گئے…حتیٰ کہ رُکے بغیرسیدھے واپس مکہ جاپہنچے اوراپنے گھروں میں آرام سے بیٹھ گئے… ٭…چنانچہ ان ’’طلقاء‘‘کے بغیرہی جنگ کے باقی تمام مراحل طے ہوئے ،حتیٰ کہ یہ ’’غزوۂ حنین‘‘اپنے اختتام کوپہنچا،اوراس اختتام کے موقع پرکیفیت یہ تھی کہ مسلمانوں کے