سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
کے ہمراہ ہولئے تھے جومحض ’’تماشائی‘‘بنے ہوئے تھے،جن کی دینی کیفیت کے بارے میں کسی کوکچھ اندازہ ہی نہیں تھاکہ ان میں سے کون دینِ اسلام قبول کرچکاہے…؟ اورکون ابھی تک کفروشرک پرہی قائم ہے…؟متعددمفسرین ومحدثین ٗ اوراسی طرح مؤرخین نے ان تماش بینوں کیلئے’’طُلَقاء‘‘کالفظ استعمال کیاہے،جس کے لفظی معنیٰ ہیں ’’آزاد…بے لگام…جوخودکوکسی ضابطے یاکسی قاعدہ وقانون کے پابندنہ سمجھتے ہوں‘‘۔(۱) چنانچہ ان’’طُلَقاء‘‘کی ذہنی کیفیت اورسوچ یہی تھی کہ انہیں حق وباطل کے مابین معرکے سے کوئی غرض نہیں تھی ،بلکہ ان کااصل مقصود یہی تھاکہ دونوں فریقوں میں سے جس کسی کی بھی جیت ہوجائے گی بس اسی کے ساتھ مل جائیں گے…جہاں فائدہ نظرآئے گااسی طرف لڑھک جائیں گے…اورجہاں کوئی خطرہ نظرآئے گاتووہاں سے بھاگ کھڑے ہوں گے… بلکہ اس سے بڑھ کریہ کہ ان ’’طلقاء‘‘میں بہت سے ایسے افرادبھی شامل تھے کہ جن کے متعددرشتے دارگذشتہ جنگوں کے موقع پرمسلمانوں کے ہاتھوں مارے گئے تھے،اورانہیں یہ علم بھی تھاکہ ہمارے ’’فلاں‘‘رشتے دارکو’’فلاں‘‘جنگ کے موقع پر’’فلاں‘‘مسلمان نے قتل کیاتھا،اوریہ کہ وہ ’’فلاں‘‘مسلمان اِس وقت رسول اللہﷺکے ہمراہ اسلامی لشکرمیں موجودہے…لہٰذاان کے دلوں میں ’’انتقام‘‘کی آگ بھڑک رہی تھی،فتحِ مکہ سے قبل کوئی ------------------------------ (۱) بہت سے مؤرخین کے بقول یہ لفظ ’’طلقاء‘‘دراصل رسول اللہﷺ کے اُس جملے سے مأخوذہے جوآپؐ نے فتحِ مکہ کے موقع پرمکہ والوں کومخاطب کرتے ہوئے ارشادفرمایاتھا:’’ اذھبو أنتم الطُلَقاء‘‘ یعنی ’’جاؤ،آج تم سب آزادہو‘‘لہٰذا’’غزوۂ حنین ‘‘کے موقع پریہ تمامترنامناسب رویہ وسلوک دکھانے والے یہ لوگ دراصل وہی تھے…واللہ أعلم ۔