سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
موقع پربہت بڑی تعدادمیں مکہ کے باشندے مسلمان ہوگئے تھے(حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے کسی کوقبولِ اسلام پرمجبورنہیں کیاتھا)اب یہ لشکرجب غزوۂ حنین کیلئے مکہ سے روانہ ہوا تواس میں ان نومسلموں میں سے بھی دوہزارافرادشامل ہوگئے،یوں کل تعدادبارہ ہزار ہوگئی۔ ٭…یہ نومسلم اگرچہ جسمانی طورپرتویقیناصحتمند ٗ بہترین جنگجو ٗ اورفنونِ سپہ گری سے بخوبی واقف اورآزمودہ کارسپاہی ہوں گے…لیکن ان کی ایمانی واخلاقی تربیت ابھی نہیں ہوئی تھی،کیونکہ یہ بالکل نومسلم تھے،ان میں سے کوئی اسی دن مسلمان ہواتھا…کوئی ایک دوروزقبل …کوئی ہفتہ یادس روزقبل…لہٰذا ذہنی وفکری تربیت اورایمانی واخلاقی کیفیت کے لحاظ سے ان میں اوراصل لشکروالوں میں زمین وآسمان کافرق تھا…کہاں یہ لوگ جو محض ایک دوروزقبل ہی مسلمان ہوئے…اورکہاں وہ ’’السابقین الاولین‘‘…وہ ابتدائی دورکے مسلمان…وہ مہاجرین وانصار…وہ ’’بدری‘‘حضرات…وہ ’’بیعتِ رضوان‘‘والے …اور’’بیعتِ عقبہ‘‘والے… جبکہ کسی بھی لشکرکی کامیابی اورعمدہ کارکردگی کیلئے یہ بات انتہائی ضروری ہواکرتی ہے اس لشکرمیں شامل تمام افردکی جسمانی صلاحیت اورتربیت کے ساتھ ساتھ …ان کی اخلاقی ٗ فکری اورذہنی تربیت اورکیفیت بھی ایک ہی جیسی ہو…ان کے ذہنی وفکری معیارمیں یکسانیت ومماثلت ہو…جبکہ فتحِ مکہ کے بعدیہ لشکرجب حُنین کی جانب روانہ ہوا…تب یہ یگانگت اورمماثلت کافی حدتک مفقودومجروح ہوچکی تھی…ذہنی وفکری توازن بگڑچکاتھا… ٭…اس کے علاوہ مکہ کے باشندوں میں سے بہت بڑی تعدادمیں ایسے لوگ بھی لشکر