سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
سکے …اوربھاگ کھڑے ہوئے… اورپھراس فوری سبق اورعملی وواقعاتی تنبیہ اورتربیت کے بعداللہ کی طرف سے رحمت اورمددونصرت کاانتظام بھی فرمادیاگیاکہ مسلمانوں کے دلوں میں ’’سکون واطمینان‘‘کی نعمت ڈال دی گئی ،ان کے دلوں سے دشمن کاخوف جاتارہا،اوروہ دوبارہ منظم ہوئے اورخوب شجاعت وثابت قدمی کے ساتھ لڑے،اورپھر اللہ کی طرف سے ان کیلئے مزیدمددکے طورپرفرشتوں کالشکربھی بھیجاگیا…تاکہ کافروں کوخوب اچھی طرح سزادی جاسکے… ٭گذشتہ سطورمیں بیان کردہ اس تفصیل سے اس غزوے کی ایک خاص بات تویہ واضح ہوگئی کہ اس موقع پرمسلمانوں کی طرف سے اپنی کثرتِ تعدادپرنظرکی وجہ سے جوبے فکری کااظہارتھا…یہ بات اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کوپسندنہیں آئی،جس کی وجہ سے فوری اورنقدسبق سکھادیاگیاکہ ظاہری اسباب کواختیارتوضرورکیاجائے،لیکن بھروسہ صرف اللہ سبحانہ وتعالیٰ پرہی کیاجائے جوکہ مسبب الاسباب ہے،اوراسی سے مددونصرت طلب کی جائے۔ اس کے علاوہ مزیدیہ کہ اس غزوے کے موقع پرکچھ اورایسے مخصوص حالات وواقعات پیش آئے کہ جن کی وجہ سے حضرات مفسرین ومحدثین ٗنیزمؤرخین نے بڑی اہمیت کے ساتھ اس غزوے کاتذکرہ کیاہے،اس بارے میں خلاصہ درجِ ذیل ہے: ٭…یہ غزوہ فتحِ مکہ کے بعدبالکل ہی اچانک اورغیرمتوقع پیش آگیا…کسی کے وہم وگمان میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ اس غزوے کی نوبت آئے گی۔ ٭…اسلامی لشکراصل میں توان دس ہزارصحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پرمشتمل تھاجورسول اللہﷺکے ہمراہ فتحِ مکہ کے موقع پرمدینہ سے آئے تھے،لیکن چونکہ فتحِ مکہ کے