سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
چاہے اپنی رحمت کی توجہ فرمائے گا،اوراللہ توبخشنے والامہربان ہے) دراصل اس جنگ کے موقع پرایک قابلِ ذکرصورتِ حال یہ پیش آئی کہ اُس روزمسلمان اپنی کثرتِ تعدادکی وجہ سے بہت خوش تھے،اورہنسی خوشی نہایت بے فکری کے ساتھ مکہ سے میدانِ جنگ کی طرف رواں دواں تھے ،اگرچہ انہیں اس بات کاخوب علم تھاکہ دشمن کی تعدادچوبیس ہزارہے…جبکہ یہ خودبارہ ہزارتھے…لیکن اس کے باوجودبہت ہی مسرورومطمئن تھے،کیونکہ اتنی بڑی تعدادپہلے کبھی نہیں ہوئی تھی،پہلے توہمیشہ مسلمانوں کی تعداداس سے بھی کم ہی رہی تھی،مثلاًغزوۂ بدرکے موقع پرمسلمان صرف تین سوتیرہ تھے اورمشرکین ایک ہزارتھے…یعنی دشمن کے مقابلے میں مسلمان آدھے سے بھی کم تھے…لیکن اس کے باوجودہمیشہ مسلمانوں کوہی غلبہ نصیب ہواتھا…جبکہ آج تومسلمان پہلی باردشمن کے مقابلے میں آدھے توتھے…دشمن کی تعدادہے چوبیس ہزار… اور مسلمان ہیں بارہ ہزار…لہٰذااپنی اس کثرتِ تعدادکی وجہ سے اس روزمسلمان بہت خوش اوربے فکرتھے،اوریوں ہنسی خوشی میدانِ جنگ کی طرف رواں دواں تھے…حالانکہ مؤمن کی شان یہ ہونی چاہئے کہ ظاہری اسباب کی بجائے اس کی نظرہمیشہ صرف اللہ پرہو، تمامتراعتمادصرف اللہ کی طرف سے مددونصرت پرہو،اسی کے ساتھ ہمیشہ لَولگائی جائے، اوراسی سے فریادکی جائے،اسباب کواختیارتوضرورکیاجائے،لیکن نظرمسبب الأسباب پرہو… اللہ عزوجل کی طرف سے مسلمانوں کیلئے فوری تنبیہ کااورہمیشہ کیلئے ایمانی تربیت کایوں انتظام کیاگیاکہ اُس روزان کی یہ کثرتِ تعدادان کے کسی کام نہ آئی …کثرتِ تعدادکے باوجودوہ دشمن کی طرف سے تیروں کی اس اچانک بوچھاڑکے موقع پرثابت قدم نہیں رہ