سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
کتبِ تاریخ میں مذکورہیں(مثلاً: اُسدالغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ،حرف المیم۔۴۶۲۶)
اوریوں وہ جوشیلاسپہ سالارجوکہ اب تک محض مالک بن عوف تھا…اب وہ رسول اللہ ﷺ کے جاں نثارصحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم أجمعین میں شامل ہوگیااورمحض ’’مالک بن عوف ‘‘ کی بجائے اب وہ حضرت مالک بن عوف رضی اللہ عنہ بن گئے۔(۲)
٭…قرآن کریم میںغزوۂ حنین کے موقع پرپیش آنے والی صورتِ حال کایوں تذکرہ کیاگیاہے: {لَقَد نَصَرَکُمُ اللّہُ فِي مَوَاطِنَ کَثِیرَۃٍ وَّ یَومَ حُنَینٍ اِذ أَعجَبَتکُم کَثْرَتُکُم فَلَم تُغْنِ عَنکُم شَیئاً وَّضَاقَت عَلَیکُمُ الأرضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیتُم مُدبِرِینَ ثُمَّ أَنزَلَ اللّہُ سَکِینَتَہٗ عَلَیٰ رَسُولِہٖ وَعَلَیٰ المُؤمِنِینَ وَ أَنزَلَ جُنُوداً لَم تَرَوھَا وَعَذَّبَ الَّذِینَ کَفَرُوا وَذٰلِکَ جَزَاؤ الکَافِرِینَ ثُمَّ یَتُوبُ اللّہُ مِن بَعْدِ ذٰلِکَ عَلَیٰ مَن یَّشَآئُ وَاللّہُ غَفُورٌ رَّحِیمٌ} (۳)
ترجمہ:(یقینااللہ نے بہت سے مواقع پرتمہاری مددکی ہے اورحنین کے دن بھی کہ جب تمہیں اپنی کثرتِ تعدادپرنازہونے لگاتھا،لیکن یہ چیزتمہارے کسی کام نہ آئی ، اورزمین اپنی کشادگی کے باوجودتم پرتنگ ہوگئی،پھرتم پیٹھ پھیرکرمڑگئے،پھراللہ نے اپنی طرف سے تسکین نازل کی اپنے رسول پراورمؤمنین پر،اورایسے لشکربھیجے جنہیں تم دیکھ نہیں رہے تھے (۴) اورکافروں کوپوری سزادی،ان کافروں کایہی بدلہ تھا،پھراس کے بعدبھی اللہ جس پر
------------------------------
(۱) خلیفۂ دوم حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں رومیوں اورفارسیوں کے خلاف لڑی جانے والی بڑی جنگوں کے موقع پریہی حضرت مالک بن عوف رضی اللہ عنہ ہمیشہ پیش پیش رہے ،خصوصاً’’ جنگ قادسیہ‘‘کے یادگارموقع پرانہوں نے بڑی خدمات انجام دیں اوراسلامی لشکرکے سپہ سالارحضرت سعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی مشاورت ومعاونت کے فرائض بھی انجام دیتے رہے (اُسدالغابہ[۴۶۲۶]وغیرہ)۔
(۲) التوبہ[۲۵۔۲۷] (۳) یعنی فرشتوں کالشکر۔