سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
ایسازوردارحملہ کیاکہ دشمن کے پاؤں اکھڑگئے ،اوروہ اپنی تمامترقوت اورعددی برتری کے باوجودہزیمت کے داغ دل پرلئے ہوئے …میدان چھوڑکریوں بھاگا…کہ پھرپلٹ کرپیچھے نہیں دیکھا…! ٭…اس جنگ کے موقع پردشمن فوج کاوہ انتہائی جوشیلااورجذباتی قسم کاسپہ سالار’’مالک بن عوف‘‘ جوکہ دراصل اس جنگ کاسرغنہ تھا،اوراس تمامترمصیبت اورلشکرکشی کااصل سبب اوراصل محرک تھا…اب جنگ کے اختتام پررسول اللہﷺنے اس کے بارے میں دریافت فرمایاکہ اُس کاکیابنا؟کیاوہ ماراگیا؟ یاکہیں زندہ سلامت موجودہے…؟چنانچہ اس کے انجام کے بارے میں معلومات حاصل کی گئیں،اورتحقیق وجستجوکے بعدیہ بات معلوم ہوئی کہ جب اسے اپنی شکست یقینی نظرآنے لگی تھی تب وہ میدان چھوڑکربھاگ کھڑاہواتھا،اوریہ کہ اب وہ طائف میں کسی جگہ روپوش ہے۔ یہ اطلاع ملنے پررسول اللہﷺنے اس کی تلاش کا اور اس تک یہ پیغام پہنچانے کاحکم دیاکہ ’’اگروہ مسلمان ہوجائے تواسے معاف بھی کردیاجائے گا،نیزیہ کہ بڑی مقدارمیں اس کاجومال واسباب مسلمانوں کے ہاتھ لگاہے ٗ وہ بھی اسے لوٹادیاجائے گا‘‘۔چنانچہ اسے تلاش کیاگیا،اورپھرآپؐکی طرف سے یہ پیغام بھی اس کے گوش گذارکردیاگیا،جس پروہ مکہ کے قریب’’جعرانہ‘‘کے مقام پر رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضرہوا،اور قبولِ اسلام کااعلان کیا،تب آپؐ نے نہ صرف یہ کہ حسبِ وعدہ اسے معاف فرمایا…اس کاتمام مال واسباب اسے لوٹایا…بلکہ اس کے علاوہ یہ کہ اسے مزیدسواونٹ بھی عطاء فرمائے…آپؐکی اس خوش اخلاقی وفیاضی سے مالک بن عوف انتہائی متأثرہوااوروقتاً فوقتاًآپؐکی مدح میں قصیدے کہتارہا …اس سلسلے میں اس کے متعددقصائدمشہور ٗ نیز