سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
پریشانی وسراسیمگی کاسبب بنا…آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ بھی برقرارنہ رہ سکا…اوریوں وہ سب ایک دوسرے سے بے خبر…ان انجان اورگمنام راستوں میںاِدھراُدھربکھرگئے… اس موقع پررسول اللہﷺنے بارباربآوازِبلنداپنے پرانے ساتھیوں کوپکاراکہ ’’یہاں چلے آؤ…میں یہاں ہوں‘‘ مزیدیہ کہ اس نازک ترین صورتِ حال میں کہ جب رسول اللہﷺکے ساتھیوں میں سے محض اکادکا چندافرادآپؐ کے ہمراہ تھے…اوراس نادرموقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آپؐتک رسائی دشمن کیلئے بہت آسان تھی …ایسے میں آپؐدشمن سے خوفزدہ ہونے اورچھپنے کی بجائے…بارباربآوازِبلندیہ اعلان فرماتے رہے’’أناالنبی لاکذب‘‘یعنی ’’میں سچانبی ہوں…اوراس بات میں کوئی جھوٹ نہیں ہے‘‘۔ اس پُراسراراوروحشتناک ماحول میں رسول اللہﷺکی یہ صداجب باربارفضامیں بلندہوئی اورآپؐکی مبارک آوازجب آپؐکے جاں نثارساتھیوں کی سماعت سے ٹکرائی توان کے شعورووجدان پرعجب کیفیت طاری ہوگئی،ان کے دلوں میں ایک نیاولولہ اورنیاجذبہ پیدا ہوا،جولوگ سراسیمہ ٗبدحواس ٗاورمنتشرہوچکے تھے اب وہ ’’لبیک…لبیک‘‘کی صدائیں بلندکرتے ہوئے دیوانہ واراُس جانب بڑھنے لگے کہ جہاں سے یہ آوازآرہی تھی… نیزاس موقع پرآپؐکے چچاحضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بھی آپؐکے ہمراہ تھے،جن کی آوازقدرتی طورپرکافی بلندتھی،آپؐکے ساتھ اب وہ بھی باربارمسلمانوں کو بآوازِ بلندپکارپکارکرآگاہ کرنے لگے کہ ’’اِدھرآؤ…رسول اللہﷺیہاں ہیں‘‘۔ آخران حضرات نے رسول اللہﷺکے اردگردجمع ہوکراپنی صفوں کودوبارہ منظم کیا،اورپھر