سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
مکہ سے طائف کی جانب رواں دواں ہوگئے،یہ لشکرآپ ﷺکے اُن دس ہزارجاں نثار ساتھیوں پرمشتمل تھاجومدینہ سے ہی فتحِ مکہ کے موقع پرآپؐ کے ہمراہ آئے تھے،جن میں مہاجرین وانصاردونوں شامل تھے،مزیدیہ کہ فتحِ مکہ کے موقع پربڑی تعدادمیں مکہ کے باشندوں نے دینِ اسلام قبول کیاتھا،اب ان میں سے بھی دوہزارافراداس لشکرمیں شامل ہوگئے تھے،یوں اب یہ اسلامی لشکرکل بارہ ہزارافرادپرمشتمل تھا۔ مکہ سے روانگی کے بعد’’حُنین‘‘نامی مقام پردونوں لشکروں کاآمناسامناہوگیا،اس موقع پر باقاعدہ اوربھرپورجنگ کے آغازسے قبل یہ صورتِ حال پیش آئی کہ یہاں پہاڑی درّوں اورتنگ وتاریک پہاڑی راستوں میں بہت بڑی تعدادمیں دشمن کے تیراندازچھپے بیٹھے تھے،وہ اسی موقع کے انتظارمیں یہاں چھپے بیٹھے تھے کہ مسلمانوں کالشکرجب یہاں پہنچے گا تواس پران تنگ وتاریک راستوں میں اچانک تیروں کی برسات کردی جائے گی… چنانچہ مسلمان جب ان تنگ وتاریک اورانتہائی دشوارگذاراورخطرناک قسم کے پہاڑی راستوں سے گذررہے تھے …تب وہاں چھپے ہوئے دشمنوں نے منصوبے کے عین مطابق اچانک ان پربہت بڑے پیمانے پرتیراندازی شروع کردی…جس کی وجہ سے مسلمان فوری طورپرسنبھل نہ سکے،پریشان اورمنتشرہوکراِدھراُدھربھاگنے لگے…اتنابڑالشکر… بارہ ہزاراِس طرف…چوبیس ہزاراُس طرف…اورپھرلاتعداداوربے شماراونٹ گھوڑے اوردیگرمویشی جوکہ وہ طائف والے اپنے سپہ سالارکے حکم پراپنے ہمراہ لائے تھے…اب یہ سب سرپٹ اِدھراُدھردوڑتے ہوئے تباہی پھیلانے لگے…اس تمامتر بدنظمی ٗ افراتفری ٗانتشارٗ اوربھاگ دوڑکے نتیجے میں اس قدرگردوغباراُڑا…کہ دن کے وقت رات کاگمان ہونے لگا…اورہرطرف اندھیراچھاگیا…جوکہ مسلمانوں کیلئے مزید