سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
کیوں نہوجائے…مگریہ سوچ کرکسی کومیدانِ جنگ سے بھاگنے کی جرأت نہوکہ’’ آج اگرمیں بھاگ کھڑاہواتومیرے بعدمیرے بیوی بچوں کاکیا بنے گا…؟ یہ تودشمن کے ہاتھ لگ جائیں گے …پھرنہ جانے ان کے ساتھ کیاسلوک ہوگا…؟‘‘اوریوں اس کے اپنے ہی بیوی بچے ا وراموال واسباب اس کیلئے قدموں کی زنجیربن جائیں۔ اس موقع پردُریدبن الصُمہ نامی اُس تجربہ کاراورعمررسیدہ جنگجونے دوبارہ اپنے جوان اورجوشیلے سپہ سالارمالک بن عوف سے ملاقات کرکے اسے یہ سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ میدانِ جنگ میں اگرصورتِ حال نازک شکل اختیارکرگئی توایسے میں بھاگتے ہوئے اورشکست خوردہ سپاہی کوشایدتلواراورنیزے سے توکچھ فائدہ پہنچ سکے…لیکن بیوی بچوں سے اسے کیافائدہ پہنچ سکے گا…؟بلکہ ایسے نازک موقع پرتووہ مزیددردِسربن جائیں گے…ایسے میں بے چارہ سپاہی اپنی فکرکرے گا…یابیوی بچوں کی…؟ لیکن جوان اورجوشیلاسپہ سالارحسبِ معمول اس باربھی اس تجربہ کاراورسمجھداربوڑھے جنگجو کی بات کولمحہ بھرکیلئے بھی خاطرمیں نہ لایا…اوریوں مسلمانوں کوہمیشہ کیلئے نیست ونابودکرڈالنے کاعزم لئے ہوئے اپنے لشکرِجرارکی قیادت کرتاہوا طائف سے مکہ کی جانب رواں دواں ہوگیا۔ اُدھرمکہ میں جب رسول اللہﷺکوہوازن اورثقیف کے ان خطرناک عزائم کے بارے میں علم ہواتوآپؐنے بھی یہ فیصلہ فرمایاکہ یہاں مکہ میں بیٹھ کردشمن کاانتظارکرنے کی بجائے ہمیں بھی دشمن کی جانب کوچ کرناچاہئے تاکہ یہاں تک پہنچنے سے قبل ہی اس کا راستہ روکاجاسکے۔ چنانچہ سن آٹھ ہجری میں بتاریخ ۶/شوال رسول اللہﷺاپنے لشکرکی قیادت کرتے ہوئے