سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
کہاکہ’’مالک!میری یہ بات یادرکھنا…کہ مسلمانوں کے خلاف تم یہ جنگ کبھی نہیں جیت سکتے…‘‘اس پرمالک اورزیادہ بگڑگیا،اس نے اس عمررسیدہ شخص کا…اوراس کے ہمنواؤں کامذاق اڑایااورانہیںبزدلی کاطعنہ بھی دیا…اوراپنے جنگ کے اس فیصلے پرقائم رہا۔ نیزاس موقع پرمالک نے یہ بھی کہاکہ ’’ان مسلمانوں کوکیاخبرکہ جنگ کس طرح لڑی جاتی ہے…؟ انہوں نے توابتک کوئی جنگ لڑی ہی نہیں ہے…کیونکہ ابتک جوہواوہ محض دکھاوااورکھیل تماشاتھا…یہ مسلمان دراصل مکہ ہی کے باشندے تھے…اوران کے مقابلے میں مشرکین بھی مکہ ہی کے باشندے تھے…دونوں کاتعلق قبیلہ’’قریش‘‘سے تھا، آپس میں رشتے داریاں تھیں اورہمدردیاں تھیں…اس لئے بس دکھاوے کیلئے یہ آپس میں جھوٹ موٹ کی جنگیں لڑتے رہے…اب ہم سے جب ٹکرہوگی…تب انہیں پتہ چلے گاکہ جنگ کیاچیزہوتی ہے…؟‘‘ اورپھرمزیدیوں بھی کہنے لگاکہ’’یہ مسلمان تومکہ سے ہی گئے تھے…اوراب اپنے ہی شہرمکہ واپس آگئے ہیں…بھلایہ بھی کوئی جنگ ہوئی…؟اپنے ہی شہرسے گئے تھے… اوراپنے ہی شہرواپس آگئے…؟ اورپھرشب وروزکی تیاری کے بعدچوبیس ہزارجنگجؤوںپرمشتمل لشکرِجرارتیارکیاگیا،اس موقع پران کے سپہ سالارمالک بن عوف نے یہ حکم جاری کیاکہ محاذِجنگ پرروانگی کے وقت ہرشخص اپنے اہل وعیال ٗسونے چاندی کے زیورات ٗ اموال واسباب ٗنیزاپنے تمام مویشیوں سمیت جنگ کیلئے روانہ ہوگا،تاکہ د ورانِ جنگ ہرکوئی مکمل استقامت وبہادری کے ساتھ اورخوب ڈٹ کر…جان توڑطریقے سے لڑے…صورتِ حال کتنی ہی نازک