سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
سے حملہ آورہوجائیں…اورپھربڑے زوروشورکے ساتھ ہنگامی طورپرانہوں نے اس حملے کی تیاری شروع کردی۔ ٭…اُن دنوں ’’مالک بن عوف‘‘نامی ایک شخص ان کاسپہ سالارتھا، جوکہ بہت جوشیلا اور طاقتورقسم کاانسان تھا،اُس وقت وہ جوان تھا،تیس سال عمرتھی ، لہٰذا ’’ہوازن‘‘ و’’ثقیف‘‘ ودیگرمتعددچھوٹے بڑے قبائل کی طرف سے مشترکہ طورپرمسلمانوں کے خلاف اس حملے کے سلسلے میں وہی سب سے زیادہ بڑھ چڑھ کر گرمجوشی اوربیتابی کامظاہرہ کررہاتھا،البتہ یہ کہ اس میں جوش توبہت زیادہ تھا،لیکن ہوش اورتجربے کی کمی تھی…بہت سے تجربہ کار افراد نے اسے اس بارے میں سمجھانے کی بہت کوشش کی ،لیکن اس جوشیلے انسان نے کسی کی ایک نہ سنی،ان میں دُرَیدبن الصُمہ نامی ایک شخص جوکہ کافی عمررسیدہ تھااوربہت زیادہ تجربہ کاربھی تھااوراس سے قبل مختلف جنگوں کے مواقع پروہ ان قبائل کے سپہ سالارکی حیثیت سے بھی فرائض انجام دے چکاتھا… آخراس نے مالک بن عوف سے ملاقات کی ، اوراسے مسلمانوں کے خلاف جنگ چھیڑنے سے بازرہنے کی تلقین کی،کیونکہ بقول اس کے مسلمان اب بہت زیادہ طاقتورہوچکے تھے ،لہٰذااب ان کے ساتھ چھیڑچھاڑاوردشمنی مول لیناکسی صورت مناسب نہیں تھا،مزیداس نے یہ اصراربھی کیاکہ جب تک ہمیں مسلمانوں کی طرف سے جارحیت کے ٹھوس قرائن وشواہدنظرنہ آئیں اُس وقت تک یہ بات ہرگزہمارے حق میں نہیںہے کہ ہم خودان پرحملہ آورہوکراپنے لئے بہت بڑاخطرہ مول لیں… لیکن مالک نے نہ تواس کی بزرگی اورتجربہ کاری کاکوئی لحاظ کیا…اورنہ ہی اس کی نصیحت کوقابلِ توجہ سمجھا…آخراُس شخص نے مالک کی اس بے اعتنائی پرخفگی کااظہارکرتے ہوئے