سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
وَنَخْلَعَ مَا کُنّا نَعبُدُ نَحنُ وَ آبَاؤنَا مِن دُونِہٖ مِنَ الحِجَارَۃِ وَالأوثَان … وَأمَرَنَا بِصِدقِ الحَدِیث ، وَ أدَائِ الأمَانَۃ ، وَ صِلَۃِ الرّحِم ، وَ حُسنِ الجِوَار، وَ الکَفِّ عَنِ المَحَارِمِ وَ الدِّمَاء ، وَ نَھَانَا عَنِ الفَوَاحِشِ ، وَ قَولِ الزُّور ، وَ أکلِ مَالِ الیَتِیم ، وَ قَذفِ المُحصَنَات … فَصَدّقنَاہُ وَ آمَنّا بِہٖ … فَعَدَا عَلَینَا قَومُنَا ، فَعَذّبُونَا ، وَ فَتَنُونَا عَن دِینِنَا ، لِیَرُدُّونَا اِلیٰ عِبَادَۃِ الأوثَانِ مِن دُونِ اللّہ… فَلَمّا قَھَرُونَا ، وَ ظَلَمُونَا ، وَ حَالُوا بَینَنَا وَ بَینَ دِینِنَا ، خَرَجنَا اِلیٰ بِلَادکَ ، وَ اختَرنَاکَ عَلیٰ مَن سِوَاکَ ، وَ رَغِبنَا فِي جِوَارِکَ ، وَ رَجَونَا أن لَا نُظلَمَ عِندَکَ أیُّھَا المَلِک‘‘ ۔ ترجمہ:’’اے بادشاہ ! ہم جاہل تھے،ہم بتوں کی پوجاکیاکرتے تھے،بدکاری کیاکرتے تھے،ہم مردارکھاتے تھے،پڑوسیوں کے ساتھ براسلوک کیاکرتے تھے،ہم میں سے جوطاقتورتھاوہ کمزورکوکھاجاتاتھا،ہم اسی کیفیت میں زندگی بسرکررہے تھے کہ اس دوران اللہ نے ہم میں سے ایک ایسی ہستی کونبی بناکرہماری جانب مبعوث فرمایاکہ جس کے حسب نسب ٗ نجابت وشرافت ٗ امانت ودیانت ٗنیزاس کی پاکیزہ زندگی سے ہم سب خوب واقف تھے،اس نے ہمیں ایک اللہ کی عبادت کی طرف دعوت دی،اوراللہ کے سواجن بتوں کی ہم اورہمارے باپ داداپوجاکرتے چلے آرہے تھے … ان کی پوجاسے بازرہنے کی تاکیدکی،اس نے ہمیں راست بازی ٗامانت داری ٗ صلہ رحمی ٗ اورپڑوسیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کاسبق سکھایا،خونریزی ٗبے حیائی ٗ دروغ گوئی ٗ یتیموں کامال ہڑپ کرجانے ٗ اورپاکدامن عورتوں پربہتان لگانے سے ہمیں منع کیا،پس ہم نے اس کی تصدیق کی اوراس پرایمان قبول کیا،جس پرہماری قوم ہمارے درپے آزارہوگئی،ہمیں ہرطرح ستایا ٗ