سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
نیزکبھی ’’جادوگر‘‘اورکبھی ’’جھوٹا‘‘کہاگیا،جیساکہ قرآن کریم میں ارشادہے{وَقَالَ الکَافِرُونَ ھٰذَا سَاحِرٌ کَذَّابٌ}(۱)ترجمہ:( اورکہاکافروں نے کہ یہ توبس جادوگرہے جھوٹاہے)
غورطلب بات ہے کہ وہی مشرکینِ مکہ جوآپﷺکوبعثت ورسالت سے قبل ہمیشہ سے ’’صادق وامین‘‘کے لقب سے پکارتے چلے آرہے تھے … اب وہی لوگ یک بیک آپؐکو’’جھوٹا‘‘کہنے لگے… اورپھرخاص طورپرجبکہ ان میں سے اکثریت کے ساتھ آپؐ کا قرابت داری کاتعلق بھی تھا… اپنوں ہی کی زبانی دل چھلنی کردینے والی یہ باتیں… یقینایہ چیزآپؐکیلئے انتہائی صدمے اورنفسیاتی تکلیف کاباعث تھی۔
نیز یہ مشرکینِ مکہ بغض ونفرت کی شدت کی وجہ سے آپﷺکوتیزنگاہوں اورکھاجانے والی نظروں سے دیکھاکرتے تھے ،جس کاقرآن کریم میں یوں تذکرہ کیاگیاہے:{وَاِن یَّکَادُ الَّذِینَ کَفَرُوا لَیُزْلِقُونَکَ بِأبْصَارِھِم لَمَّا سَمِعُوا الّذِکرَ وَ یَقُولُونَ اِنَّہٗ لَمَجْنُونٌ} (۲) ترجمہ:(اورقریب ہے کہ کافراپنی تیزنگاہوں سے آپ کوپھسلادیں جب کبھی قرآن سنتے ہیں ٗ اورکہہ دیتے ہیں کہ یہ توضروردیوانہ ہے)
مزیدیہ کہ آپﷺ کودلی رنج اورنفسیاتی صدمہ پہنچانے کی غرض سے بدبخت ابولہب نے اپنے بیٹوں عتبہ اورعتیبہ کوحکم دیاکہ وہ دونوں اپنی بیویوں کوطلاق دے دیں ،جوکہ آپؐکی صاحبزادیاںیعنی حضرت رقیہ اورحضرت ام کلثوم (رضی اللہ عنہما)تھیں ، جن کانکاح آپؐ کی بعثت سے قبل ابولہب کے ان بیٹوں کے ساتھ ہواتھا(۳)
------------------------------
(۱) ص[۴] (۲) القلم[۵۱]
(۳) البتہ متعدد مؤرخین کے بقول اُس وقت تک رخصتی کی نوبت نہیں آئی تھی،محض نکاح ہواتھا،واللہ أعلم۔