سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
اُدھرمشرکینِ مکہ کوجب یہ خبرملی کہ مسلمان اب ان کی پہنچ سے دورملکِ حبشہ میں آرام اورچین کی زندگی بسرکررہے ہیں …توان کینہ پروروں نے کئی دن پیچ وتاب کھانے کے بعد آخریہ فیصلہ کیاکہ ایک وفدملکِ حبشہ کی جانب روانہ کیاجائے، جووہاںکے بادشاہ نجاشی سے ملاقات کرکے اسے اس بات پرآمادہ کرے کہ مسلمانوں کودوبارہ ان کے حوالے کردیاجائے۔ آخراس منصوبے کے تحت مشرکینِ مکہ کاایک وفدملکِ حبشہ جاپہنچا، اوربادشاہ سے ملاقات سے قبل اس کے درباریوں اورمشیروں سے متعددملاقاتیں کیں،ان کے ساتھ تعارف اوردوستی کے رشتے استوارکئے،اورپھربطورِرشوت قیمتی تحائف اورنذرانے پیش کئے … یوں شاہی دربارمیں پیش ہونے اوروہاں اپنی آمدکامقصدبیان کرنے سے قبل ہی ان مکاروں نے بادشاہ کے ان وزیروں ٗ مشیروں کواپنی مٹھی میں کرلیا…!! آخرایک روزشاہی دربارمیں پیش ہوئے ، وہاں بھی بھاری نذرانے اورقیمتی تحائف پیش کرنے کے بعداپنامدعیٰ بیان کرتے ہوئے یوں گویاہوئے: ’’اے بادشاہ!ہمارے شہرکے چندسرپھرے اورفتنہ پردازقسم کے لوگ اپنے آبائی دین سے برگشتہ ہوکرآپ کے ملک میں آبسے ہیں۔اے بادشاہ !اگرانہوں نے اپنے آباء واجدادکادین چھوڑکرآپ کادین ہی اپنالیاہوتاتب بھی غنیمت تھا… مگرانہوں نے توایک ایساعجیب وغریب نیادین ایجادکرلیاہے جسے سمجھنے سے ہم اورآپ دونوں ہی قاصرہیں… اے بادشاہ!جس طرح انہوں نے ہمارے شہرمکہ میں فتنہ پھیلایاہے ٗ یقینااسی طرح اب یہ آپ کے ملک میں بھی فتنہ اورخرابی ہی پھیلائیں گے۔لہٰذاہمارے بزرگوں اوردانشمندوں نے ہمیں آپ کی خدمت میں بھیجاہے ، تاکہ آپ انہیں ہمارے حوالے کردیں… اورہم