سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
یہودکی طرف سے اس قسم کی باتیں وقتاًفوقتاًسنتے رہنے کی وجہ سے مدینہ کے ان عرب باشندوں کے ذہنوں میں ’’نبوت‘‘اور’’انبیاء‘‘کاتصورموجودتھا،اوریہ ان کیلئے کوئی نئی یا عجیب وغریب بات نہیں تھی کہ جسے رسول اللہﷺکی زبانی وہ سنتے ہی یکسرٹھکرادیتے یا رد کردیتے، لہٰذامشرکینِ مکہ کے برعکس انہوں نے یہ بات سن کرکوئی جارحانہ رویہ اختیار نہیں کیا،اورنہ ہی کسی خاص حیرت یاتعجب کااظہارکیا۔ اس کے علاوہ یہ کہ سالہاسال سے مدینہ میں ان کی کیفیت یہ چلی آرہی تھی کہ یہ باہم جنگ وجدال میں مشغول تھے،ایک دوسرے کے خلاف برسرِپیکارتھے،اوس وخزرج کے مابین تباہ کن جنگوں کے اس لامتناہی سلسلے نے انہیں بربادکررکھاتھا،اپنے تمامتروسائل جنگ کی آگ میں جھونک دینے کے باعث معاشی طورپریہ کنگال ہوچکے تھے،اوپرسے یہودی انہیںوقتاًفوقتاً مزیدبڑی خطیررقم بطورِقرض دیتے ،اورپھرسوددرسودکاسلسلہ چلتارہتا،جس کی وجہ سے یہ مزیدکنگال … جبکہ یہودی مزیدخوشحال ہوتے چلے جاتے…اگرکبھی اوس وخزرج میں صلح کے امکانات نظرآنے لگتے تویہ یہودی اپنی عیاری ومکاری اورخفیہ سازشوں کے ذریعے فتنے کی اس آگ کودوبارہ بھڑکادیتے۔ یہ ایسی خوفناک صورتِ حال تھی کہ جس کی وجہ سے مدینہ کے یہ عرب قبائل انتہائی اضطراب اوربے چینی میں مبتلاتھے ، لڑتے لڑتے اب وہ تنگ آچکے تھے ،اوران کی شدیدخواہش تھی کہ کسی طرح اس خوفناک جنگ سے اب انہیں نجات نصیب ہوسکے کہ جس نے انہیں تباہ وبربادکرکے رکھدیاہے…! یہی وجہ تھی کہ ایسی پریشان کن صورتِ حال میں جب انہوں نے حج کے موقع پررسول اللہ ﷺ کی زبانی دینِ اسلام کے بارے میں سنا… تووہ گہری سوچ میں ڈوب گئے،اورباہم