بیعت ہوئی اورحضرت حسنؓ بڑی جمیعت (چالیس ہزار کی فوج) کے ساتھ حضرت معاویہؓ کے مقابلہ میں آئے۔قریب تھا کہ ان کے اورمعاویہؓ کے درمیان جنگ چھڑ جائے۔مگر معاویہؓ کی طرف سے فیصلہ کے لئے قرآن مجید پیش کیاگیا۔ادھر سے کیا دیر تھی۔ فوراً منظوری دے دی گئی۔
آخر حضرت حسنؓ معاویہؓ کے حق میں خلافت سے دستبردار ہو گئے اورطے پایا کہ تاحین حیات معاویہؓ خلیفہ رہیں۔ ان کے بعد حضرت حسنؓ خلیفہ ہوں۔لیکن خدا کی شان حضرت حسن ؓ معاویہؓ کی زندگی ہی میں رحلت فرما گئے اورمعاویہؓ نے یزید کو ولی عہد بنا کر اس کے لئے بیعت لینی شروع کر دی اورحضرت حسینؓ اس وقت اگرچہ حیات تھے ۔لیکن یہ معاویہؓ کوخلافت سپرد کرنے پر حضرت حسنؓ سے ناراض تھے۔اس لئے معاویہؓ بھی ان کی خلافت نہیں چاہتے تھے اورمعاویہؓ نے خیال کیا کہ خلیفہ کوحق حاصل ہے کہ وہ اپنے بعدکسی کو خلیفہ مقرر کرے۔ جیسے حضرت ابوبکرؓ نے حضرت عمرؓ کو خلیفہ مقرر کیا۔چنانچہ اس خیال کے مطابق معاویہؓ نے جب اہل مدینہ سے یزید کے حق میں بیعت لینے کی غرض سے اپنا آدمی بھیجا تو اس نے اہل مدینہ کو یزید کی بیعت کے لئے ترغیب دیتے ہوئے یہ الفاظ کہے کہ’’یہ ابوبکرؓ اورعمرؓ کی سنت ہے۔‘‘
حضرت عائشہؓ کے بھائی عبدالرحمن بن ابوبکرؓ نے اس کے جواب میں فرمایا:’’ ھذا کسروانیہ‘‘ یہ حضرت صدیقؓ اورفاروقؓکی سنت نہیں۔ بلکہ کسریٰ کی سنت ہے۔ کیونکہ خلافت کوئی وراثت نہیں کہ باپ کے بعد بیٹا مستحق ہو۔ نہ حضرت صدیقؓ اورعمر ؓ نے ایسا کیا۔بلکہ حضرت عمرؓ نے خلافت کامعاملہ جن چھ صحابہؓ کے سپردفرمایا۔ان کو وصیت فرمائی کہ میرے بیٹے عبداﷲ کو دل جوئی کے لئے مشورہ میں شامل کرلینا۔ لیکن خلافت میں اس کا کوئی حق نہیں۔ دراصل حضرت معاویہؓ کو انتخاب میں غلطی لگی۔ انتخاب خواہ قوم کی طرف سے ہو یا خلیفہ کرے۔ دونوں صورتوں میں انتخاب ایسے شخص کا ہو ۔جو باوجود اہلیت کے امارت کاحریص نہ ہو۔
رسول اﷲﷺ کا ارشاد ہے:’’واﷲ لانولی علے ھذا العمل احد اسالہ ولااحداحرص علیہ (متفق علیہ مشکوۃ کتاب الامارۃ ص۳۲۰،الفصل الاول)‘‘ {ہم عہدی امارت ایسے شخص کے سپرد نہیں کریں گے،جو اس کاطالب یا حریص ہو۔}
یزید کی دینی حالت بہت کمزورتھی۔ باوجود اس نااہلیت کے حریص اتنا تھا کہ حضرت حسنؓ کو ان کی بیوی سے اسی نے زہردلوایا۔تاکہ وہ ختم ہو جائیں اورمعاویہؓ کے بعد ان کی بجائے اس کی خلافت قائم ہو جائے۔ چنانچہ حسنؓ آخر کار اسی زہر سے شہید ہو گئے۔ البتہ یہ معلوم نہیں کہ معاویہؓ کو اس زہر کاعلم ہو ایا نہیں۔