لیکن یہ بھی صحیح نہیں۔ ماقبل والی حدیث کے ضمن میں اسی راوی کے متعلق بحث گزر چکی ہے۔نیز اس حدیث کی حاکم نے بھی تصیح کی ہے۔جیسا کہ خود ابن خلدون نے لکھا ہے کہ:’’رواہ الحاکم فی المستدرک وقال صحیح الاسناد ولم یخرجاہ (مقدمہ ابن خلدون ج۱ص۳۱۹) ‘‘ یعنی حاکم نے مستدرک میں اس حدیث کو نقل کیا ہے اورکہا ہے کہ سند کے اعتبار سے یہ روایت صحیح ہے۔
۱۹… ’’عن محمد بن الحنفیۃ قال کنا علیؓ فسالہ رجل عن المھدی فقال لہ ھیھات ثم عقد بیدہ سبعا فقال ذالک یخرج فی اخرالزمان…الخ (مقدمہ ابن خلدون ج۱ص۳۱۹)‘‘
یہ روایت بالکل صحیح ہے۔حاکم نے تو مستدرک میں اس روایت کے متعلق لکھا ہے کہ ’’ھذا حدیث صحیح علی شرط الشیخین (مقدمہ ابن خلدون ص۳۱۹)‘‘یعنی یہ حدیث صحیح ہے اوربخاری ومسلم کے شرط پر پورا اترتی ہے اورخود علی شرط مسلم تو ابن خلدون نے بھی تسلیم کیا ہے۔چنانچہ لکھتے ہیں کہ ’’وانما ہو علی شرط مسلم فقط (مقدمہ ج۱ص۳۱۹)‘‘یعنی یہ روایت صرف مسلم کی شرط پر صحیح ہے اورجب یہ روایت علیٰ شرط مسلم ہوگی تو صحیح ہوگی۔جیسا کہ محدثین نے لکھا ہے کہ ’’الصحیح اقسام اعلاھا مااتفق علیہ البخاری ومسلم ثم ماانفرد بہ البخاری ثم مسلم ثم علی شرطھما ثم علی شرط البخاری ثم مسلم…الخ (تقریب للنوعی ص۳۱۳ج۱)‘‘
یعنی صحیح حدیث کی کئی قسمیں ہیں:
۱… وہ جو بخاری اورمسلم میں ہو۔
۲… وہ جو صرف بخاری میں ہو۔
۳… جو مسلم میں ہو۔
۴… جو بخاری ومسلم کی شرط پر ہو۔
۵… جو صرف بخاری کی شرط پر ہو۔
۶… جو صرف مسلم کی شرط پر ہو۔
اس سے معلوم ہوا کہ جو حدیث مسلم کی شرط پر ہوگی وہ صحیح کی قسم ہے۔اس کے راوی بخاری ومسلم کا راوی ہے۔جس کے ثقہ ہونے پر اجماع ہے۔ایک راوی عماد ذہبی پر تشیع کاالزام