عورتوں کی خوبیاں اور خامیاں |
یک ایسی |
|
ایک اور روایت میں ہے:ایک دفعہ حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیقنبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں،اُنہوں نے باریک کپڑا پہنا ہوا تھا ، نبی کریمﷺنے اُن سے اپنا چہرہ انور پھیر لیا اور فرمایا:”إِنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا بَلَغَتِ الْمَحِيضَ لَمْ تَصْلُحْ أَنْ يُرَى مِنْهَا إِلَّا هَذَا وَهَذَا“ اے اسماء ! جب عورت بالغ ہوجائے تو اُس کے لئے مناسب نہیں کہ اس کے اِن اِن اعضاء یعنی چہرہ اور ہتھیلیوں کے علاوہ جسم کا کوئی حصہ نظر آئے ۔(ابوداؤد:4104) ایک روایت میں ہے کہ ایک دفعہ بنو تمیم کی کچھ عورتیں حضرت عائشہ صدیقہ کے پاس آئیں ، اُنہوں نے باریک کپڑے پہن رکھے تھے ، حضرت عائشہ صدیقہ نے اُن سے کہا :”إِنْ كُنْتُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلَيْسَ هَذَا بِلِبَاسِ الْمُؤْمِنَاتِ،وَإِنْ كُنْتُنَّ غَيْرَ مُؤْمِنَاتٍ فَتَمَتَّعِيْنَهُ“اگر تو تم واقعی مؤمن عورتیں ہو تو سُن لو کہ یہ ایمان والی عورتوں کا لِباس نہیں ہے اور اگر تم مؤمن نہیں ہو تو ٹھیک ہے ، ان کپڑوں سے بھلے فائدہ حاصل کرتے رہو۔(قرطبی :14/244) ایک دفعہ حفصہ بنت عبد الرحمن(جوکہ حضرت عائشہ صدیقہ کی بھتیجی تھیں) باریک دوپٹہ اوڑھ کر حضرت عائشہ صدیقہ کے پاس آئیں ،حضرت عائشہ صدیقہ نے وہ دوپٹہ لےکر پھاڑ دیا اور ایک موٹا دوپٹہ پہنادیا ۔(مؤطا امام مالک :1907) فائدہ: حضرت عائشہ صدیقہ نے تو صرف ایک باریک کپڑے اور دوپٹہ دیکھا تھا اور غصہ میں آکر اُسے پھاڑ ڈالاتھا آج تو نبی کے نام لیوا ، اِسلام سے رشتہ جوڑنے والی خواتین اپنا دوپٹہ اور ستر چھپانے کے کپڑے