عورتوں کی خوبیاں اور خامیاں |
یک ایسی |
|
ہے،بال واضح ہوتے ہیں ، اور بعض اوقات تو اندرونی کپڑے بھی نمایاں ہورہے ہوتے ہیں ۔ یہ سب برہنگی اور بے لباسی ہےجس کی وجہ سے انسان کپڑا پہننے کے باوجود برہنہ ہوتا ہے ۔(3)چست ہونا : یعنی کپڑا اس قدر تنگ اور چست ہوکہ جسم کا حُجم اور اس کی بناوٹ ، اُبھار اور نشیب و فراز بالکل واضح اور نمایاں ہورہا ہو ، یہ بھی برہنگی کی ہی ایک شکل ہے۔(تکملہ فتح الملہم :4/77)نوٹ :واضح رہے کہ جس طرح ایسے چست اور فٹنگ کے کپڑے پہننا جائز نہیں کیونکہ ان میں کھلی برہنگی نظر آتی ہے ،اسی طرح ایسے کپڑوں کے پہننے والے کو دیکھنا بھی جائز نہیں اگرچہ کپڑے موٹے ہی کیوں نہ ہو ، اِس لئے کہ یہ کپڑوں کو دیکھنا نہیں بلکہ مستور اعضاء کو ہی دیکھنا کہلاتا ہے ۔ (رد المحتار :6/366) لباس میں برہنگی کی مندرجہ بالا تینوں صورتیں جائز نہیں ،احادیثِ طیّبہ میں اس کی مُمانعت کی گئی ہے ، چند روایات ملاحظہ فرمائیں: حضرت دحیہ کلبی کو نبی کریمﷺنے ایک کپڑا دیا اور فرمایا:”اِصْدَعْهَا صَدْعَيْنِ، فَاقْطَعْ أَحَدَهُمَا قَمِيصًا وَأَعْطِ الْآخَرَ امْرَأَتَكَ تَخْتَمِرُ بِهِ“اس کے دو ٹکڑے کرلو ، ایک سے قمیص بنالو اور دوسرا اپنی بیوی کو دیدوتاکہ وہ اس کا دوپٹہ بنالے ، جب حضرت دحیہجانے لگے تو نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا :”وَأْمُرِ امْرَأَتَكَ أَنْ تَجْعَلَ تَحْتَهُ ثَوْبًا لَا يَصِفُهَا“اپنی بیوی سے کہنا کہ اس کے نیچے کپڑا لگالے تاکہ یہ دوپٹہ پہن کر اُس کے بال ظاہر نہ ہوں۔ (ابوداؤد :4116)