عورتوں کی خوبیاں اور خامیاں |
یک ایسی |
|
(6)علمِ دین سے نابلد ہونا ۔ علمِ دین وہ روشنی ہے جس کی ضیاء میں اِنسان کو چلنے کا راستہ ملتا ہے ،صحیح غلط کی پہچان ہوتی ہے،کھرا کھوٹا سمجھ آتا ہے،نفع و ضرر کا اِدراک ہوتا ہے،اللہ تعالیٰ کے احکامات اور نبی علیہ الصلوۃ و السلام کے طریقے سمجھ آتے ہیں جس کی برکت سے اُس کے قدم اچھے کاموں کی جانب اُٹھتے اور بڑھتے چلے جاتے ہیں ، لیکن جب یہ روشنی ہی اِنسان کے پاس نہ ہو تو زندگی میں اُس کے اندر کئی قسم کی اخلاقی اور عملی بُرائیاں پیدا ہونے لگ جاتی ہیں ۔شکرِ نعمت کا معاملہ بھی کچھ اِسی طرح کا ہے ،جب ایک انسان کو اِس بات کا علم ہی نہ ہو کہ اللہ کی نعمتوں کا ہر حال میں شکر اداء کرنا چاہیئے اور کسی حال میں اپنے پیدا کرنے والے کی ناشکری کرکے دنیا و آخرت کا نقصان سر پر نہیں لینا چاہیئے تو وہ کیسے اور کیونکر شکر کی اہمیت کو سمجھ سکتا ہے ، نتیجہ یہ کہ ذرا سی آزمائش اور معمولی سی تکلیف پر بھی اُس کے منہ سے ناشکری کے کلمات نکلنے لگ جاتے ہیں ۔ستائیسویں خامی:مَردوں کی جانب مائل ہونا اور اُنہیں مائل کرنا : ایک خامی عورتوں کی یہ ہے کہ وہ اپنے انداز اور طور طریقوں سے اور لباس و پوشاک سے مَردوں کو اپنی جانب مائل کریں بلکہ خود بھی مَردوں کی طرف مائل ہوں، ایسی عورتوں کو آپﷺنے جہنمی عورتیں قرار دیا ہے،چنانچہ حدیث میں ہے آپﷺنے اِرشاد فرمایا:”صِنْفَانِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَمْ أَرَهُمَا، قَوْمٌ مَعَهُمْ سِيَاطٌ كَأَذْنَابِ الْبَقَرِ يَضْرِبُونَ بِهَا النَّاسَ، وَنِسَاءٌ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ مُمِيلَاتٌ، مَائِلَاتٌ رُءُوسُهُنَّ كَأَسْنِمَةِ الْبُخْتِ الْمَائِلَةِ، لَا يَدْخُلْنَ الْجَنَّةَ وَلَا يَجِدْنَ رِيحَهَا، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ كَذَا وَكَذَا“ دوزخیوں کی دو قسمیں ہیں جن کو میں نے نہیں دیکھا:ایک تو وہ لوگ