عورتوں کی خوبیاں اور خامیاں |
یک ایسی |
|
اللہ تعالیٰ نے عورتوں کوبالوں کی چوٹیوں سے اور مَردوں کو ڈاڑھیوں سے مزیّن اور آراستہ کیا ہے ،پس عورتوں کا بال کٹوانا درحقیقت اپنی خلقت کو تبدیل کرنا ہے جس کی قرآن و حدیث میں مُمانعت منقول ہے۔چنانچہ ایسی عورتوں کو جو اللہ کی خلقت کوزیب و زینت اور بناؤ سنگھارکیلئے تبدیل کردیں اُن پر لعنت کی گئی ہے،حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں:”أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ الوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ وَالمُتَنَمِّصَاتِ مُبْتَغِيَاتٍ لِلْحُسْنِ مُغَيِّرَاتٍ خَلْقَ اللَّهِ“نبی کریمﷺ نےجسم گودنے والی، گدوانے والی اور (پلکوں کے) بالوں کو اکھیڑ کر زینت وحسن حاصل کرنے والیوں پر لعنت بھیجی ہے جو در اصل اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی چیز کو بدلتی ہیں۔(ترمذی:2782) حضرات فقہاء کرامنے ذکر کیا ہے:”قَطَعَتْ شَعْرَ رَأْسِهَا أَثِمَتْ وَلُعِنَتْ زَادَ فِي الْبَزَّازِيَّةِ وَإِنْ بِإِذْنِ الزَّوْجِ لِأَنَّهُ لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ، وَلِذَا يَحْرُمُ عَلَى الرَّجُلِ قَطْعُ لِحْيَتِهِ، وَالْمَعْنَى الْمُؤَثِّرُ التَّشَبُّهُ بِالرِّجَالِ“عورت کا اپنے سر کے بالوں کو کاٹنا اگرچہ شوہر کی اِجازت ہی سے کیوں نہ ہو، گناہ اور لعنت کا باعث ہے، اِس لئے کہ خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی اِطاعت جائز نہیں، اور یہی وجہ ہے کہ مرد پر اپنی ڈاڑھی کو(ایک مشت سے کم) کاٹنا حرام ہے، اور اس کی اثر انداز ہونے والی وجہ ”مَردوں کے ساتھ مُشابہت“ ہے۔(الدر المختار و حاشیۃ ابن عابدین:6/407)چھٹی خامی:بھوئیںEyebrowبنانا : عورتوں میں ایک خامی بکثرت یہ دیکھنے میں آتی ہے کہ وہ بھوئیں بناتی ہیں یعنی بناؤ سنگھار کے طور پر اَبرو کے بال کو تراش کر باریک کرتی ہیں ، اور یہ عورتوں میں بہت عام ہوتا جارہا ہے ،حالآنکہ حدیث میں اس کی