(یا وقف فنڈکے پاس) بطور ِ امانت آجاتی ہے ‘‘۔ (تکافل،ص: ۱۱۴)
2۔تکافل کمپنی کے ساتھ پالیسی ہولڈر جو بھی معاملہ کرتا ہے وہ در حقیقت ایک مکمل معاملہ ہے ،یعنی یہ کہ پالیسی ہولڈر یہ معلوم کر کے کہ وقف فنڈ سے اس کے موہوم نقصان کی تلافی ملتی ہے، وہ اس کے لالچ میں تکافل کمپنی سے یک بارگی مکمل معاملہ کرتا ہے، لیکن صمدانی صاحب اس معاملہ کے حصے بخرے کرتے ہیں اور ہرحصہ کی علیحدہ علیحدہ تاویل کر کے سیدھا دکھانے کے درپے ہیں ۔
ٍ -3 اس بات کو پیشِ نظر رکھا جائے کہ وقف فنڈ خود ایک شخصِ قانونی ہے اور وقف فنڈ کو جو چندہ دیا جائے وہ اس کی ملکیت میں داخل ہو جاتا ہے، تو صمدانی صاحب کی مذکورہ بالا عبارتوں کا حاصل یہ ہو گا کہ وقف فنڈ زید سے کہتا ہے کہ تم مجھے اتنا چندہ دو تو میں بشرط موجودگی وسائل تمہارے ممکنہ نقصان کی تلافی کروں گا اور زید یہ جانتے ہوئے کہ ہو سکتا ہے کہ اس کا نقصان ہو اور ہوسکتا ہے کہ نہ ہو اور یہ بھی جانتے ہوئے کہ وقف فنڈ کی ملکیت میں تلافی کے لیے رقم ہو سکتا ہے، ہو اور ہو سکتا ہے ، نہ ہو، چندے کی رقم وقف فنڈ میں جمع کراتا ہے۔
صمدانی صاحب کی بات کا خلاصہ نکالیں تو یہ نکلے گا کہ زید موہوم تلافی کی خاطر وقف فنڈ کو چندہ دیتا ہے۔ یہ بات عقدِ معاوضہ کے منافی بھی نہیں اور علاوہ ازیں قمار ہونے پر بھی صریح دلیل ہے۔
-4ایک اور پہلو جو قابلِ غور ہے وہ یہ ہے کہ پالیسی ہولڈر کی جانب سے وقف فنڈ کو عطیہ و چندہ دیا جاتا ہے، لیکن شرطِ فاسد کے ساتھ یعنی موہوم تلافی کی شرط کے ساتھ ۔ اب کوئی کہے کہ ہدیہ و چندہ شرطِ فاسد سے فاسد نہیں ہوتا، بلکہ خود شرطِ فاسد باطل ہو جاتی