حبیب بورقیبہ نے قرآن کریم کے بارے میں اپنے شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا اور نماز، روزہ کے اوقات اور ضرورت پر اپنے مخصوص خیالات پیش کئے تھے، جو امت اسلامیہ کے تسلیم شدہ فکر کے خلاف تھے، معمر قذافی نے اسلامی زندگی پر حملہ کرنے کے لئے حدیث کا انتخاب کیا۔ ان کی رائے میں عبادت کے طریقہ نظام تک حدیث کو محدود رکھنا چاہیے۔ باقی زندگی کے بارے میں احادیث کا انطباق اس زمانہ پر نہیں ہوسکتا۔ معمر قذافی کا اس سے ظاہر مقصد اسلام کو صرف عبادت تک محدود رکھنا ہے۔ تاکہ عیسائیت کی طرح اسلام زندگی سے منقطع ہوجائے، انہوں نے ایک مجلس میں علماء کے سامنے حدیث کے بارے میں ایسے خیالات کا اظہار کیا جن پر اسلامی حلقوں نے سخت احتجاج کیا، ان کے خیالات صرف حدیث سے انکار کے مرادف ہی نہیں ہیں، بلکہ اطاعت رسول سے انحراف کی حیثیت رکھتے ہیں۔
اپنی گفتگو میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ حدیث کی صحت مشکوک ہے، اس لئے کہ تدوین حدیث کے عہد میں بقول ان کے کثرت سے جھوٹی حدیثیں حضور کی طرف منسوب کی گئیں، انہوں نے حدیث میں تعارض بھی ثابت کرنے کی کوشش کی۔ جس طرح ان سے پہلے تونس کے حبیب بورقیبہ نے قرآن میں تعارض ثابت کرنے کی کوشش کی تھی۔ تیسری بات انہوں نے یہ کہی کہ اکثر اقوال حضور کے عہد کے تصور کے مطابق ہیں، اب حالات بدل گئے ہیں، اس لئے دنیا کے معاملات میں ان اقوال کا انطباق نہ ہوگا۔ "انتم اعلم بامور دنیاکم" کا ان کے نزدیک یہی مطلب ہے۔
معمر قذافی کا خیال ہے کہ حدیث پر اعمال کی بنیاد رکھنا صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ صحیح حدیث ہے یا موضوع، اس لئے صرف قرآن پر انحصار کرنا چاہیے۔