اور اس کا ماہنامہ معارف (جو عرصۂ دراز تک مولانا سید سلیمان ندوی کی ادارت میں نکلا ہے) عالمِ اسلام میں خاصی شہرت اور عزت رکھتے ہیں۔
سرسید احمد خاں کی قیادت اور ان کا مکتبِ خیال
دوسری قیادت جس کا عَلم سرسیداحمدخاں١؎ مرحوم نے بلند کیا وہ مغربی تہذیب اور اس کی مادی بنیادوں کی تقلید اور جدید علوم کو اس کے عیوب و نقائص کے ساتھ اور بغیر کسی تنقید و ترمیم کے اختیار کرلینے کی داعی تھی، وہ اسلام اور قرآن کی اس طرح تفسیر اور توجیہ کرتی تھی، جو انیسویں صدی کے آخر کے سائنسی معلومات اور مغربی تمدن کے معیاروں کے مطابق ہو اور اہل مغرب کے ذوق و مزاج کے ساتھ ہم آہنگ ہو وہ ان غیبی حقائق اور طبعی اسرار کے انکار پر قائم تھی، جو حواس اور تجربہ کی دسترس سے بہت دور ہیں، اور بادی النظر میں جدید علوم کے مطابق نظر نہیں آتے ہیں۔ ۲
سرسید احمد خاں نے آخری مغل سلطنت کا زوال (جو مسلمانوں کی عظیم حکومت کی ایک دھندلی اور پھیکی سی تصویر تھی) اور ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کی ناکامی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا، انہوں نے اس ہزیمت، اہل ہند کی دل شکستگی، ان کی عظیم جماعت کے مقابلہ میں مٹھی بھر غیرملکیوں کی فتح کا مشاہدہ کیا، مسلمانوں کو اس کوشش کی جو بھاری قیمت ادا کرنی پڑی اس کو بھی دیکھا، وہ قوم جو کل اس ملک کی
------------------------------
۱۔ حالات و سوانح کے لئے ملاحظہ ہو: ’’حیاتِ جاوید‘‘ از خواجہ الطاف حسین حالی، و علی گڑھ میگزین سرسید نمبر
۲۔ یہ زمانہ جیسا کہ سب جانتے ہیں طبعی علوم کے طفولیت کا زمانہ تھا، اور اس کا نشوونما ہورہا تھا، اور یہ علوم ابھی اپنے مکمل نتائج تک نہیں پہنچے تھے۔