وہ اسلام جو کتاب و سنت سے ماخوذ ہے، اس انقلابی عہد کا ساتھ نہیں دے سکتا، اس لیے انہوں نے اسلام کو اپنے انقلابی ذہن کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی تا کہ اس سے وہ ایسے اسلام کا ایڈیشن تیار کر سکیں جو اس عہد کے پورے مغربی نظام کے ساتھ چل سکتا ہو، اس انقلابی کوشش کی وجہ سے ان کو بعض مغربی مفکرین نے اس عہد کا نبی تک قرار دے دیا، اور بعض انقلابی ذہن کے مسلمانوں نے مفکرِ عصر کا خطاب دیا۔
کرنل قذافی نے بعض مغربی اقدار، جو سرمایہ دارانہ تھے اور بعض اشتراکی اقدار قبول کیے، زندگی کے صنعتی تصور کے غلبہ کی وجہ سے انہوں نےلیبیا کو صنعتی ملک بنانے کی کوشش میں غیر ملکیوں کو کھلی چھوٹ دے دی، جس کے نتیجے میں مذہب کی رعایت کے بغیر لیبیا کی آبادی میں غیر ملکیوں کا بڑا اضافہ ہوا، اور اس سے لیبیا کی اجتماعی زندگی بری طرح متاثر ہوئی، یہ اُن کی عجلت پسندی اور آمرانہ ذہن کا نتیجہ تھا۔
کرنل قذافی نے جمال عبدالناصر کے انتقال کے بعد مختلف ملکوں میں انقلاب کا نظریہ عام کرنے اور وہاں قائم نظاموں کے خلاف رجحانات کو تقویت پہونچانے کا کام اپنے ذمہ لیا، انہوں نے سرمایہ داری اور اشتراکیت، مذہب اور مغربی تمدن اور افکار کے درمیان مطابقت پیدا کرنے کی کوشش کی، اور کچھ ایسے اقدامات کیے اور بیانات دیئے، جو اسلام کے تسلیم شدہ افکار و نظریات کے خلاف تھے، ان کے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اسلام کو محض عبادت تک محدود کرنا چاہتے ہیں، عبادت اور عام زندگی کے بارے میں ان کا تصور تونس کے حبیب بورقیبہ کے بعض افکار سے بہت قریب ہے، جو مستشرقین کی طرف سے پیدا کئے ہوئے شکوک و شبہات اور اعتراضات کا نتیجہ ہیں۔