تک محدود کردیاجس کی وجہ سے مصر کی انفرادی شخصیت اجاگر نہ ہوسکی۔
ان اسباب و محرکات میں سب سے اہم سبب جس نے مصر کو اس کمزور رخ پر ڈالا اور جس نے نہ صرف مصر، بلکہ پوری عربی دنیا کو ناقابلِ تلافی نقصان پہونچایا، وہ افسوسناک سیاسی صورتِ حال تھی، جو انیسویں صدی میں مصر میں نظر آتی ہے، اور جس میں اس کے ساتھ پورا عالم اسلام شریک ہے، یہ غیرملکی سامراج اور برطانوی اقتدار تھا جو بالواسطہ یا بلاواسطہ دونوں شکلوں میں ہرجگہ قائم تھا، اس غیر فطری صورتِ حال نے عالمِ اسلام کے اہل فکر اور قائدین کو اس کا موقعہ ہی نہ دیا کہ وہ دوسرے مسائل کی طرف خاطر خواہ توجہ کرسکیں، ان کی ساری قوتیں اور صلاحیتیں اسی ایک نقطہ پر مرکوز ہوگئیں اور اس نے ان کے سوچنے کے لئے کوئی میدان باقی نہ چھوڑا۔
سید جمال الدین افغانی
جمال الدین افغانی ۱؎ عالمِ اسلام میں ایک ممتاز ذہن و دماغ اور طاقتور شخصیت کے مالک تھے، انہوں نے مغرب کو مطالعہ و سیاحت کے ذریعہ خوب پہچانا، لیکن ان کی شخصیت پر عظیم شہرت و مقبولیت کے باوجود کچھ ایسا پردہ پڑا ہوا ہے کہ ان کی شخصیت بھی بعض حیثیتوں سے معمہ بن گئی ہے، اور ان کی طرف متضاد رجحانات اور اقوال منسوب کئے جانے لگے ہیں، ان کی گفتگو، خطبات اور تحریروں کا جتنا حصہ محفوظ ہے، اور ان کے شاگرد و عقیدت مند ان کے حالات و اخلاق اور علم کے متعلق جو واقعات بیان کرتے ہیں، ان سے وضاحت کے ساتھ ان کے قلبی واردات اور حقیقی خیالات کا اور ان کی ذاتی زندگی کا حال نہیں معلوم ہوتا اور
------------------------------
۱۔ سید جمال الدین افغانی کے حالات کے لئے ملاحظہ ہو: ’’زعماء الاصلاح فی العصر الحدیث‘‘ مؤلفہ ڈاکٹر احمد امین۔