اخذ کرنے اور ملک کو جدید طریقہ پر منظم کرنے کے ضروری کام میں کوتاہی اور تغافل سے کام لیا، علماء اور دینی رہنماؤں نے ملک وقوم کی علمی وفکری رہنمائی کے سلسلہ میں اس ذہانت و جرات اور محنت کا ثبوت نہیں دیا، جس کی ان کے منصب کے لحاظ سے ان سے توقع تھی، اور وہ ان رجحانات کی نگرانی نہ کرسکے جو اس ملک میں تیزی سے داخل ہو رہے تھے، جن میں سے بعض فطری اور حق بجانب تھے، وہ اچھے اور برے اور مفید و غیر مفید تقاضوں میں تمیز نہ کرسکے، اور علم وفکر کی اسی سرحد پر کھڑے رہ گئے، جس سرحد سے علم کا قافلہ اٹھارویں صدی میں گزرا تھا،۱ اور ان سب چیزوں سے بڑھ کر یہ کہ ترکی کے آخری سلاطین نے مذہب اور خلافت کو اپنے مخصوص مصالح اور ذاتی مفاد کے لئے استعمال کیا ملک کی پسماندگی، فوجی انحطاط، مسلسل شکستوں اور ذلت انگیز ناکامیوں میں ان سلاطین کا بھی کبھی کبھی دخل ہوتا تھا، بعض اوقات ان سلاطین اور ان کے وزراء اور ارکانِ سلطنت نے دشمن سے بھی ساز باز اور قوم فروشی سے بھی احتراز نہیں کیا، یہ واقعات اگرچہ انفرادی تھے لیکن چھپے ڈھکے نہیں تھے، اور نوجوان طبقہ کی برافروختگی کا اپنے اندر خاصا سامان رکھتے تھے۔
دشوار اور نازک مرحلہ!
انیسویں صدی کے آخر میں ترکی کو جس صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، وہ فطری اور قدرتی ہونے کے باوجود ایک اسلامی ملک کے لئے اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ تھا، اسلامی معاشرہ کو اس سے پہلے دو طرح کے تجربوں سے گزرنا پڑا تھا، پہلا تجزبہ وہ تھا جو پہلی اور دوسری صدی کے اسلامی معاشرہ کو پیش آیا تھا، اس کی نوعیت یہ تھی کہ اسلامی معاشرہ طاقتور، تازہ دم اور زندگی اور ترقی کی صلاحیتوں سے بھر پور تھا، اس کی حیثیت فاتح اور غالب طاقت کی تھی، اس کے بالمقابل دنیا کی دو قدیم و عظیم
------------------------------
۱۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو مصنف کی کتاب ’’انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر‘‘