اس تحریک اور اس کے قائدین نے ہندوستانی مسلمانوں کے اندر دین کی محبت شریعت کا احترام اور اس کے راستہ میں قربانی کی طاقت اور مغربی تہذیب کے مقابلہ میں زبردست استقامت و صلابت (جو کسی اور ایسے اسلامی ملک میں دیکھنے میں نہیں آئی جس کو مغربی تہذیب اور مغرب کے اقتدار سے واسطہ پڑا ہو) پیدا کر دی، دیوبند اس رحجان کا علمبردار اور ہندوستان میں قدیم اسلامی ثقافت و تہذیب و تربیت کا سب سے بڑا مرکز تھا۔
تحریک ندوۃ العلماء
ندوۃ العلماء کی فکری تحریک (۱۳۱۱ھ مطابق ۱۸۹۳ء) جس کے بانی مولانا محمد علی مونگیری رحمہ اللہ (۱) تھے، اور جس کی رہنمائی ان کے بعد عرصہ تک مولانا شبلی (۲) اور ان کے نامور رفقاء نے کی اور اس کے قائم کردہ دار العلوم میں اس کی صلاحیت تھی کہ وہ اسلامی اور مغربی ثقافت اور علماء دین و جدید طبقہ کے درمیان پُل کا کام کر سکے اور ایک ایسا متوازن فکر تیار کر سکے جو قدیم و جدید دونوں کے محاسن کا جامع ہو اور اس مدرسہ فکر کے ذمہ داروں کے الفاظ میں "اصول و مقاصد میں سخت اور بے لوث اور فروع اور وسائل میں وسیع اور لچکدار ہو۔"
ان کے نزدیک دینی نصاب تعلیم ایک تغیر و ترقی پذیر ذریعہ تعلیم و تربیت تھا، جس کو زمانہ کی تبدیلیوں اور تقاضوں کے مطابق (اپنی روح و مقاصد اور اساسی علوم
------------------------------
۱۔ مولانا کے حالات و سوانح کے لئے ملاحظہ ہو "تذکرہ مولانا محمد علی مونگیری رحمہ اللہ، از محمد الحسنی رحمہ اللہ شائع کردہ ندوۃ العلماء۔
۲۔ ملاحظہ ہو "حیات شبلی رحمہ اللہ" از مولانا سید سلیمان ندری رحمہ اللہ۔