سابقہ صورتوں سے مختلف تھی، وہ اگر چہ آزاد اور ایک بڑی سلطنت کے مالک تھے، لیکن مرور زمانہ کے ساتھ خود شناسی اور خود اعتمادی کا جوہر بہت کچھ کھوچکے تھے، ان میں نہ تو قرون اولی کا جوش تھا، نہ ایمان و یقین کی وہ طاقت، اس کے بالمقابل مغربی تہذیب، نئی زندگی، نئی قوت سے معمور اور نئے جوش اور نئی امنگوں س مخمور تھی، وہ اپنے ساتھ ایک ایسا صنعتی، علمی و فکری انقلاب لائی تھی، جس کے حدود روز بروز وسیع تر ہوتے چلے جارہے تھے، اور جس سے صرف نظر کرنا ان ترکوں کے لیے ممکن نہ تھا، جن کا مرکز سلطنت یورپ کے قلب میں تھا، اس تجربہ کو کامیابی سے گزارنے کے لئے اور اس سے فتح مندانہ طریقہ سے نکلنے کے لیے ان کو رہنمائی نہ گذشتہ اسلامی تاریخ سے مل سکتی تھی جس میں اس قسم کی کوئی نظیر نہیں پائی جاتی، نہ موجودہ عالم اسلام سے جس کے لیے یہ پہلا تجربہ تھا، اور جو خود ترکی کے میدان میں پیش آرہا تھا اور پورے عالم اسلام کی ترکی ہی پر نظر جمی ہوئی تھی کہ وہ اس سلسلہ میں کون سا موقف اختیار کرتا ہے اور ممالک اسلامیہ کو کیا رہنمائی دیتا ہے؟
اس نازک اور دشوار تجربہ سے عہدہ برآ ہونے کے لیے اعلی درجہ کی ذہانت اسلامی اور مغربی تہذیب سے گہری واقفیت، اور بہت بڑی جرأت کی ضرورت تھی، یہ درحقیقت ایک مجتہدانہ کام تھا، جس کو ترکی کو چار و ناچار انجام دینا تھا، جس میں سارا عالم اسلام اس کی تقلید اور پیروی کے لیے تیار تھا، اسی کام کی تکمیل پر عالم اسلام کے تہذیبی و فکری اور کسی حد تک دینی و سیاسی مستقبل کا بھی انحصار تھا، اس ضرورت کو نہ تو ٹالا جاسکتا تھا، نہ سرسری طور پر اس سے گزارا جاسکتا تھا، نہ اس کے لیے کوئی مہلت لی جا سکتی تھی، یہ ایک ناگزیر فریضہ تھا، جس کو جلد سے جلد ادا ہونا چاہیے تھا، اور جس کو ہر مسئلہ پر مقدم رکھنا چاہیے تھا.
قدیم وجديد گروہ
اس فریضہ کی تکمیل کے لیے ترکی کے دو گروہوں پر نظر پڑتی تھی، ایک قدیم علماء کا گروہ جو افسوس