معمر قذافی سے علماء نے جب اس سلسلہ میں گفتگو کی تو انہوں نے اپنے خیالات پر اصرار کیا، بعض اخبارات کی رپورٹوں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے علماء کو دھمکی دی کہ اگر ان کے اصلاحی اقدامات کی راہ میں علماء رکاوٹ ڈالیں گے تو وہ ان کے ساتھ وہی معاملہ کریں گے، جو مصطفٰے کمال نے علماء کے ساتھ کیا، اس گفتگو میں انہوں نے مصطفٰے کمال کی کاروائیوں کو حق بجانب بتایا، علماء کے ساتھ ان کی گفتگو سے ان کا مصطفٰے کمال سے تاثر اور مرعوبیت پوری طرح ظاہر ہوتی ہے۔ جمال عبد الناصر سے شاگردی کا تعلق تو وہ اکثر ظاہر کرتے رہے ہیں، عبادات اور نظام حیات کے بارے میں حبیب بورقیبہ سے اتفاق بھی پوشیدہ نہیں ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک ہی سلسلہ کی کڑیاں ہیں، اور وہ اسی مدرسہ کے شاگرد ہیں، انہوں نے اپنے افکار کتابی شکل میں جو "الکتاب الاخضر" کے نام سے موسوم ہے، ظاہر کئے ہیں، جس میں اقتصادی، اجتماعی اور سیاسی امور پر ان کے افکار ہیں۔
ایک مشہور عرب جماعت "التحریر" کا ایک وفد معمر قذافی سے ملا، اور اس نے ان کے خیالات کی تصحیح کی کوشش کی (۱)، اس کے علاوہ رابطہ عالم اسلامی کے ایک موقر وفد جس میں مختلف مسلم ملکوں کے نمائندے تھے، ان سے ملا، اور ان سے اس سلسلہ میں گفتگو کی، لیکن ان کے خیالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
وفد سے قذافی نے کہا کہ سنت کو نماز، روزہ، حج کی ادائیگی کے سلسلہ میں وہ تسلیم کرتے ہیں، البتہ دوسرے معاملات میں وہ صرف ان احادیث کو تسلیم کریں گے جو ان کے نزدیک صحیح ہوگی، یا عقل کے مطابق، وفد نے ان سے احادیث کے صحت، سالمیت اور
------------------------------
۱۔ ملاحظہ ہو اس کی رپورٹ یا اس کا اردو ترجمہ مندرجہ "تعمیر حیات" ۲۵ فروری ۱۹۷۹ء، ۱۰ مارچ ۱۹۷۹۔