جب انورالسادات نے گذشتہ عہد کے بعض اقدامات اور تنظیموں کے خلاف کارروائی شروع کی اور مصری پریس میں ناصر کے خلاف مضامین شائع ہوئے، اور ناصر کے بعض معتمد علیہ اشخاص کو ہٹایا گیا، معمر قذافی نے اس وقت ناصر سے اپنے تعلق اور ان سے انتساب اور شاگردی کا اعلان کیا، آخری مصر اسرائیل جنگ کے دوران دونوں ملکوں میں سخت اختلاف رونما ہوا، مصر میں ناصر کے بعد اخوان پر سے پابندیوں میں نرمی کی گئی اور اسلامی لٹریچر کی اشاعت پر قیود کم ہوئے تو لیبیا میں اسلامی لٹریچر پر پابندیاں سخت کی گئیں، اسلامی مصنفین کی دعوتی کتابوں پر پابندیاں عائد کر دی گئیں۔
مصر اسرائیل جنگ کے بعد روس لیبیا تعلقات میں اضافہ ہوا اور مصر کی جگہ روس نے لیبیا کو مرکز بنا لیا۔
کرنل قذافی کی فکر میں انقلابیت کا شروع سے غلبہ رہا، انہوں نے جو اقدامات کئے وہ انقلاب کی روح سے متاثر تھے، جمال عبدالناصرکے انتقال کے بعد سے خاص طور پر ان کو عالم عربی میں خلا محسوس ہوا، جس کو پر کرنے کےلئے انہوں نے صرف اپنے کو اہل پایا اور اس مقصد کی تکمیل کے لیے وہ برابر کوشاں رہے۔
کرنل قذافی نے شروع سے یہ اندازہ لگایا کہ یہ عہد اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا ہے، اس لیے انہوں نے شروع سے اپنے کو اس نشاۃ ثانیہ کا قائد تصور کر لیا، لیکن انقلابی ذہن، تربیت و تعلیم کی کمی، مغربی افکار کے اثر سے جن کے سایہ میں ان کی پرورش ہوئی تھی، لیبیا کی دولت اور اس کی سیاسی، جغرافیائی اور اقتصادی اہمیت کے باعث اور حد سے بڑھی ہوئی خود اعتمادی کی وجہ سے انہوں نے یہ تصور قائم کر لیا کہ