’’ ملک میں اشتراکی انقلاب اس وقت تک نہیں آسکتا، جب تک اہم عہدوں پر وہ لوگ قابض نہ ہوں جو اشتراکیت پر پورا یقین رکھتے ہیں‘‘ صدر نے اس پر اطمینان ظاہر کیا کہ اشتراکیت سے اتفاق نہ رکھنے والوں کو اثر اور نفوذ کے مواقع سے الگ کر دیا گیا ہے، اور ان کی صفائی کر دی گئی ہے۔
نظام تعلیم میں جو قوم کی ذہنی تکوین اور مستقبل کے لئے قوم کو رہنما فراہم کرنے کے لئے اہم وسیلہ ہے تبدیلی کی گئی میثاق قومی کے بموجب متحدہ نظام تعلیم رائج کیا گیا، جس کی وجہ سے دینی تعلیم عصری تعلیم کے تابع ہو گئی، اس صورت حال سے جو نقصان پہنچا اس کا شکوہ الجزائر کے مفکر اور دانشور شیخ احمد حمانی نے جو اسلامی کونسل کے صدر ہیں حزب ’’ جہۃ التحریر الوطنی‘‘ کے چوتھے اجلاس میں جس میں قائم مقام صدر رابح بیطاط اور نو منتخب صدر الشاذلی بن جدید شریک تھے اس طرح کیا:-
’’ دینی تعلیم کا اہتمام الجزائر میں ہمیشہ رہا ہے، الجزائر کو یہ شرف حاصل ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے دس فقہاء یہاں تعلیم کے لئے بھیجے، قدیم عہد میں تلمسان اور بجایہ میں ایسے مراکز تھے، جہاں یورپ سے لوگ پڑھنے آتے تھے، اور یہیں سے یہ علوم یورپ پہنچے، دینی مداس تحریک جہاد کے عہد میں بھی اپنا کام کرتے رہے، اور قوم کو تیار کرنے میں انھوں نے اہم رول ادا کیا، لیکن میثاق وطنی نے تعلیم کے لئے جو متحد نظام نافذ کیا ہے، اس سے دینی تعلیم کے مراکز کو سخت نقصان پہنچا ہے، ہم یہ سمجھتے تھے کہ اس نظام سے غیر دینی مدارس میں دینی تعلیم رائج ہوگی اور دینی تعلیم عام ہوگی مگر نتیجہ اس کے برعکس ہوا۔‘‘
شیخ حمانی نے اس خطرہ کا اظہار کیا کہ کچھ عرصہ کے بعد مکاتب اسلامیہ میں پڑھنے والے طلبہ اعلیٰ تعلیم سے محروم ہو جائیں گے، یونیورسٹیوں میں دینی تعلیم کا جو واجبی نظام ہے، وہ