۶۵ ء میں فوجی انقلاب کے بعد حواری بومدین اقتدار میں آئے اور احمد بن بلا قید کر دئیے گئے، بومدین بن بلا کے مقابلہ میں سیاسی ذہن سے زیادہ انتظامی ذہن رکھتے تھے، اس لئے انھوں نے تعلیم اور عربی زبان کی اشاعت کی طرف توجہ کی اور ملک کی تعمیر نو کے لئے اسکیم بنائی، بلا کے مقابلہ میں انھوں نے نعرہ بازی سے گریز کیا اور ملک کی سیاسی اور اجتماعی تنظیم کی طرف متوجہ ہوئے لیکن وہ اپنے مزاج اور الجزائر کے مقامی مسائل کی پیچیدگی کی وجہ سے عالم اسلام کے مسائل سے زیادہ دلچسپی نہ لے سکے، اس کی وجہ سے الجزائر جو دوسرے ملکوں کے لئے سرفروشی اور جاں نثاری اور دینی غیرت و حمیت میں مثال اور رہنما بن سکتا تھا، اپنا رول ادا کرنے سے قاصر رہا۔
الجزائر میں جو سیاسی تنظیم قائم کی گئی اس نے اشتراکیت، قومیت اور اسلام کا شعار اختیار کیا لیکن اس سلسلہ میں سیاسی تنظیم کے قائدین کی توجہ اشتراکیت کے نفاذ کی طرف زیادہ رہی، اشتراکیت کو اختیارکرنے اور اس کو ترجیح دینے کی وجہ سے الجزائر میں وہی فکری تضاد اور کشمکش پیدا ہوگئی جو دوسرے اسلامی اشتراکی ملکوں میں پائی جاتی ہے، اشتراکی فکر کی بنیاد پر الجزائر نے عرب مشرق کے ان ممالک سے زیادہ تعلقات اور روابط قائم کئے جو اشتراکی ذہن کے تھے، اور اشتراکی فکر کی وجہ سے مذہبی اداروں اور احیاء اسلام کے لئے کوشاں جماعتوں سے متصادم تھے۔
الجزائر میں انتظامیہ اور تعلیم کے مراکز اور سیاسی تنظیم میں صرف ان لوگوں کو کام کرنے کا موقع دیا گیا جو اشتراکی ذہن کے تھے، صدر رابح بیطاط نے جو صدر بومدین کے انتقال بعد کچھ عرصہ تک قائم مقام صدر رہے، سیاسی تنظیم ’’ حزب جہۃ التحریر الوطنی ‘‘ کے جلسہ میں صفائی کے ساتھ یہ اعلان کیا:-