رہے نہ روح میں پاکیزگی تو ہے ناپید
ضمیر پاک و خیالِ بلند و ذوقِ لطیف ۱؎
اس کا نتیجہ دل کی وہ بے نوری اور زندگی کی وہ بے کیفی ہے، جو اس تہذیب پر بری طرح مسلط ہے، اور اس نے اس کو ایک مشینی و مصنوعی رنگ دے کر روحانی قدروں سے اس کا رشتہ منقطع اور خدا کی رحمت سے اس کو دور کردیا ہے، وہ کہتے ہیں:۔
یہ عیشِ فراواں یہ حکومت یہ تجارت
دل سینۂ بے نور میں محرومِ تسلی
تاریک ہے افرنگ مشینوں کے دھویں سے
یہ وادیٔ ایمن نہیں شایان تجلی ۲؎
انہوں نے اس تہذیب کی لادینی بنیاد اور اس کے لادینی خمیر کا جابجا ذکر کیا ہے، جس کو مذہب و اخلاقیات سے بیر ہے، اور جو روحِ ابراہیمی سے متنفر ہوکر مادیت کے معبودانِ باطل کی پرستار اور ایک نئے بت خانہ کی معمار ہے، مثنوی پس چہ باید کرد‘‘ میں ذکر فرماتے ہیں:۔
لیکن از تہذیبِ لادینی گریز!
زاں کہ او بااہلِ حق داردستیز
فتنہ ہا ایں فتنہ پرواز آورد
لات و عزیٰ در حرم باز آورد
از فسونش دیدۂ دل نابصیر
روح از بے آبیٔ او تشنہ میر
لذتِ بے تابی ازدل می برد!
بلکہ دل زیں پیکرِ گل می برد!
کہنہ دزدے غارتِ او برملاست
لالہ می نالد کہ داغِ من کجاست! ۳؎
اس تہذیب کا شیوہ غارت گری اور آدم دری ہے اور اس کا مشغلہ اور مقصد تجارت اور سوداگری ہے، دنیا کو امن و سکون اور بے غرض محبت اور خلوص کی دولت اسی وقت نصیب ہوسکتی ہے جب اس تہذیب جدید کا نظام تہہ وبالا ہوجائے، فرماتے ہیں:۔
------------------------------
۱۔ ضربِ کلیم ص: ۶۹
۲۔ ایضاً ص: ۱۴۶
۳۔ ص: ۴۱