کے بغیر اور اس کے نظریات و افکار کے تقابلی مطالعہ، جرات مندانہ اور گہری نظر، تقلید (مغرب) کی بندش سے خلاصی اور اس ایمان کی چنگاری کے بغیر جو ابھی بجھی نہ تھی، بلکہ راکھ کے ڈھیر میں دب گئی تھی، اور کسی وقت بھی بھڑک اٹھنے کی منتظر تھی، ناممکن تھا، ان سب چیزوں کے مشاہدہ کے بعد ان میں بہت سے فاضل مغربی تہذیب سے مایوس ہو کر اس کے خلاف علمِ بغاوت بلند کرتے ہوئے بڑی گہرائی اور جرات کے ساتھ اس پر تنقید کا ارادہ لے کر واپس ہوئے، ان کے فکر اور تنقید میں نہ انتہاپسندی تھی نہ واقعات کا انکار، نہ حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا جذبہ۔
ان انقلابی ناقدین میں سب سے نمایاں نام علامہ محمد اقبالؒ کا ہے، جن کے متعلق کہاجاسکتا ہے کہ تعلیم جدید نے اس صدی کے اندر ان سے بہتر نمونہ پیش نہیں کیا، ان کو جدید مشرق کا سب سے زیادہ بالغ نظر مفکر قرار دیا جاسکتا ہے، مشرق کے اہلِ نظر اور ذہین افراد میں (باوجود اس کے کہ ان میں سے اکثر کو مغرب کی سیر اور مطالعہ کا موقعہ ملا) کوئی ایسا نہ تھا، جس نے مغربی تہذیب و افکار کا اتنی گہری نظر سے مطالعہ کیا ہو اور اس قدر جرات کے ساتھ اس پر تنقید کی ہو۔
محمد اقبال نے اس تہذیب کے عناصر ترکیبی اور اس کے کمزور پہلوؤں کا اچھی طرح مطالعہ کیا اور اس فساد کی تہ تک پہونچنے کی کوشش کی جو اس کے مادی رجحان مذاہب اور اخلاقی وروحانی اقدار سے اہلِ مغرب کی بغاوت کی وجہ سے اس کے خمیر میں شامل ہوگیا ہے، انہوں نے قلب و نظر کے اس فساد کو جو اس تہذیب کی خصوصیت ہے، روحِ تہذیب کی آلودگی وناپاکی پر محمول کیا ہے، وہ کہتے ہیں:
فسادِ قلب و نظر ہے فرنگ کی تہذیب
کہ روح اس مدنیت کی رہ سکی نہ عفیف