شیوۂ تہذیبِ نو آدم دری است
پردۂ آدم دری سوداگری است
ایں بنوک ایں فکر چالاکِ یہود
نورِ حق از سینۂ آدم ربود!
تاتہ وبالا نہ گردد ایں نظام
دانش وتہذیب ودیں سودائے خام ۱؎
یہ تہذیب اگرچہ (اپنی عمر و تاریخ کے لحاظ سے) جواں سال و نوعمر ہے مگر اپنی غلطیوں اور بنیادی کمزوریوں کی وجہ سے عالمِ نزع میں گرفتار اور مکمل زوال کے لئے تیار ہے، اس تہذیب میں ’’یہودی شاطروں‘‘ نے جو اقتدار حاصل کرلیا ہے، اس کےپیش نظر بعید نہیں کہ یہودی ہی اس ’’مقدس ترکہ‘‘ کے وارث ہوں، وہ کہتے ہیں:۔
ہے نزع کی حالت میں یہ تہذیبِ جواں مرگ
شائد ہوں کلیسا کے یہودی متولی ۲؎
لیکن بستر مرگ پر طبعی موت مرنے کے بجائے سارے آثار وقرائن اس بات کے شاہد ہیں کہ یہ تہذیب خودکشی کا ارتکاب کرے گی اور خود اپنے خنجر سے اپنا گلا کاٹ کر اپنا کام تمام کرلے گی۔ فرماتے ہیں:۔
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائدار ہوگا
اس تہذیب نے دین واخلاق کی نگرانی اور خوفِ خدا کی رفاقت کے بغیر تسخیر کائنات کا جو نازک سفر شروع کیا تھا، اس کی کامیابیوں نے خود اس تہذیب کے وجود وبقا کو خطرہ میں ڈال دیا ہے اور اندیشہ پیدا ہوگیا ہے کہ وہ خود اپنی آگ میں جل کر خاک نہ ہوجائے، فرماتے ہیں:۔
وہ فکر گستاخ جس نے عریاں کیا ہے فطرت کی طاقتونکو
اسی کی بے تاب بجلیوں سے خطر میں ہے اس کا آشیانہ ۳؎
------------------------------
۱۔ پس چہ باید کرد ص: ۳۰
۲۔ ایضاً ص: ۱۴۱
۳۔ بال جبریل ص: ۱۷۶