عورتوں کی خوبیاں اور خامیاں |
یک ایسی |
|
ایک حدیث میں ہے،نبی کریمﷺاِرشاد فرماتے ہیں:”الْمَرْأَةُ عَوْرَةٌ، وَإِنَّهَا إِذَا خَرَجَتْ مِنْ بَيْتِهَا اسْتَشْرَفَهَا الشَّيْطَانُ،وَإِنَّ أَقْرَبَ مَا تَكُونُ إِلَى اللَّهِ فِي قَعْرِ بَيْتِهَا“عورت چھپائے جانے کی چیز ہے، اور جب وہ گھر سے نکل جائے تو شیطان اُس کی تاک میں لگ جاتا ہے، اور بیشک عورت سب سے زیادہ اپنے ربّ کے قریب اُس وقت ہوتی ہے جب وہ اپنے گھر کے اندر ہوتی ہے۔(طبرانی اوسط:8096) ایک اور روایت میں ہے،حضرت عبد اللہ بن مسعودفرماتے ہیں:”احْبِسُوا النِّسَاءَ فِي الْبُيُوتِ، فَإِنَّ النِّسَاءَ عَوْرَةٌ، وَإِنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا خَرَجَتْ مِنْ بَيْتِهَا اسْتَشْرَفَهَا الشَّيْطَانُ“عورتوں کو گھروں میں روک کررکھو اِس لئے کہ عورت چھپائے جانے کی چیز ہے، جب وہ اپنےگھر سے نکل جائے تو شیطان اُس کی تاک میں لگ جاتا ہے۔(مصنف ابن ابی شیبہ:7616) ایک اور روایت میں عورت کے گھر میں بیٹھنے کو اللہ کے راستے میں جہاد کے برابر قرار دیا گیا ہے ،چنانچہ حضرت انسفرماتے ہیں کہ کچھ عورتیں نبی کریمﷺکی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا:یا رسول اللہ! مَرد حضرات تو کئی فضیلتوں اور جہاد فی سبیل اللہ میں(ہم سے) سبقت کرگئے، ہمارے لئے کیا عمل ہے کہ جس کی وجہ سے ہم مجاہدین کے اجر کو حاصل کرسکتے ہیں؟آپﷺنے اِرشاد فرمایا: ”مَنْ قَعَدَ مِنْكُنَّ فِي بَيْتِهَا فَإِنَّهَا تُدْرِكُ عَمَلَ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ“تم میں سے جو عورت اپنے گھر میں بیٹھے تو وہ مجاہد فی سبیل اللہ کے اجر کو پالیتی ہے۔(مسند بزار:6962)