اندر اس سے حرارت و نورانیت آگئی۔ اگر آگ نہ ہو تو حرارت و نورانیت کیسے آئے؟ اور یہ نورانیت آئی کیسے؟ یہ آڑ کی وجہ سے آئی کہ پانی اور آگ میں ایک آڑحائل ہے، یہ آڑ ہی کی برکت ہے کہ پانی میں نورانیت آگئی۔ اسی طرح نارِشہوت گو ایسی چیز ہے کہ بعض مرتبہ نارِ شیطانی کی طرف پہنچا دیتی ہے۔ لیکن تقویٰ کی آڑ سے اگر اس کی حفاظت کی جائے تو اسی سے نورانیت بھی پیدا ہوتی ہے:
شہوت دنیا مثال گل خن است
کہ ازو حمام تقویٰ روشن ترست
خلاصہ یہ ہے کہ روزہ میں ترک باعث ہے نور کا اور تلاوت میں وجود سبب ہے نور کا۔ اس بیان سے یہ شبہ بھی رفع ہوگیا جو بعض نئے خیال کے لوگ کیا کرتے ہیں کہ ایسی حالت میں قرآن پڑھنے کا کیا نفع جب ہم اس کو سمجھتے ہی نہیں؟ مگر قرآن پڑھنے میں جو فائدہ ہے اس سے یہ لوگ ناوقف ہیں۔ اُوپر ان بعض فائدوں کا ذکر ہوچکا ہے۔
علاوہ بریں رسول اللہ ﷺ کو قرآن کے الفاظ کا اس قدر اہتمام تھا کہ فرشتہ کے ساتھ ساتھ پڑھنے کی مشقت اس اندیشہ سے برداشت فرماتے تھے کہ ان محبوب الفاظ میں سے کوئی لفظ میرے حافظہ میں سے نکل نہ جائے۔ یہاں تک کہ حق تعالیٰ کے منع کرنے کی نوبت آئی اور حق تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ کام ہمارے ذمہ ہے کہ قرآن پاک کو آپ ﷺ کے دل پر جمادیں گے۔ { لااَا تُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہٖ }۔1
اس تسلی کے بعد حضور ﷺ فرشتے کے ساتھ نہیں پڑھتے تھے۔ جب حضور ﷺ کو الفاظِ قرآن کا اس درجہ اہتمام تھا تو ہم کو بھی ان کا اہتمام کرنا چاہیے کہ بدوں الفاظ کے معانی کی حفاظت نہیں ہوسکتی۔ لہٰذا معانی کی نگہبانی یہی ہے کہ الفاظ کو یاد کیا جائے۔ جو نو تعلیم یافتہ الفاظِ قرآن کے پڑھنے کو بے فائدہ سمجھتے ہیں، در حقیقت وہ معانی قرآن کی بھی قدر نہیں کرتے، ورنہ اس کی حفاظت کے ہر سامان کی ان کو قدر ہوتی۔
صاحبو! الفاظ قرآن کو اس کی حفاظت میں بہت بڑا دخل ہے کیوںکہ الفاظ قرآن کا یہ معجزہ ہے کہ وہ نہایت سہولت سے حفظ ہوجاتے ہیں۔ تم اپنے حفظ پر کیا ناز کرتے ہو ذرا ’’کافیہ‘‘ یا اور کوئی نظم و نثر کی کتاب تو حفظ کر کے دیکھو آپ کو اس وقت اپنے حفظ کی حقیقت معلوم ہوجائے گی۔ یہ خدا تعالیٰ ہی کی تو حفاظت ہے کہ قرآن جیسی ضخیم کتاب کا حفظ کرنا ایسا آسان کردیا ہے کہ بچے تک حفظ کرلیتے ہیں۔ بلکہ تجربہ شاہد ہے کہ حفظ قرآن بچپن ہی میں اچھا ہوتا ہے۔ بڑے ہو کر ویسا حفظ نہیں ہوتا جیسا بچپن میں ہوتا ہے، اور یقینا بچپن میں بچہ معانی قرآن سمجھنے کے قابل نہیں ہوتا۔ تو جو لوگ بدوں معانی سمجھے الفاظ قرآن کے پڑھنے کو بے کار کہتے ہیں، اب اگر ان لوگوں کے مشورہ پر بچوں کو قرآن نہ پڑھایا جائے تو اس کا