چیزوں کو بیچ دیا ہو تو ان کی قیمت کو صدقہ کرے۔5
۵۴۔ قربانی کے ذبح ہوجانے کے بعد اگر کوئی شخص یہ چاہے کہ اپنے حصہ کے دام کسی سے لے کر اپنا حصہ اس کو دے دے تو یہ جائز نہیں۔
۵۵۔ قربانی کی کھال کا بعینہٖ ڈول، مصلیٰ وغیرہ بنا کر خود استعمال کرنا بھی جائز ہے اور کسی امیر کو دے دینا بھی جائز ہے، اور اگر اس کھال کو ایسی چیز سے تبدیل کرلیا کہ بعینہٖ اس چیز کے وجود سے کچھ مدت تک نفع حاصل ہو سکتا ہو، جیسے: مشک، چھلنی، جائے نماز، کپڑا وغیرہ، تو یہ بھی جائز ہے۔6لیکن اگر کسی ایسی چیز سے تبدیل کیا ہے جس کے وجود سے بعینہٖ نفع حاصل نہیں کیا جاسکتا یا اس کو روپیہ پیسے کے ساتھ فروخت کر دیا گیا تو اب اس کی قیمت کو خود استعمال نہیں کرسکتا نہ کسی امیر کو دے سکتا ہے، بلکہ اس کو صدقہ کر دیا جائے۔7
۵۶۔ اس صدقہ کے مستحق وہی لوگ ہیں جن کا ذکر صدقۂ فطر کے بیان میں ہوچکا ہے، وہاں دیکھا جائے۔
جس جانور میں کئی حصہ دار ہوں تو اگر تقسیم کرنا چاہیں گوشت کو وزن کر کے تقسیم کیا جائے، اندازہ سے تقسیم نہ کیا جائے۔ اور اگر تقسیم نہ کرنا چاہیں کہ ایک جگہ ہی فُقَرا کو تقسیم کرنا اور پکا کر کے کھانا کھلانا چاہیں تو یہ بھی جائز ہے۔1
فائدہ: مدارس اسلامیہ کے طلبا اس صدقہ کے بہترین مصرف ہیں، اس میں صدقہ کا ثواب بھی ہے اور علمِ دین کا اِحیا بھی۔ مگر کسی خدمت اور معاوضہ میں اس کا دینا جائز نہیں ہے۔ اسی طرح قربانی کے جانور کی رسی وغیرہ سب کو صدقہ کر دے۔2
تنبیہ: بعض لوگ چرم قربانی کی قیمت بیوہ عورتوں کو دے دیتے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ ان کے پاس سونا، چاندی کا زیور یا نقدی تو بقدر نصاب نہیں ہے، اسی طرح یہ دستور ہے کہ اس کی قیمت کو بہنوں وغیرہ کا حق سمجھا جاتا ہے اور مال دار بہنوں بیٹیوں کو بھی دے دیتے ہیں، یہ درست نہیں، البتہ بیوہ عورت یا بہن اگر غریب ہو تو اس کو دے سکتے ہیں۔
قربانی کی قضا: