انجام یہی ہوگا کہ حفظ کا دروازہ بند ہو جائے گا۔ یہ لوگ حق تعالیٰ کا مقابلہ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قرآن کے حافظ پیدا کرنا چاہتے ہیں تاکہ یہ محفوظ رہے اور یہ لوگ دنیا سے حفظِ قرآن کو مٹانا چاہتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کو قرآن کے الفاظ سے اس قدر عشق تھا کہ آپﷺ خود تو تلاوت کرتے ہی تھے، ایک دفعہ آپﷺ نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے فرمایا کہ مجھے قرآن سناؤ۔ انھوں نے عرض کیا: أعلیک أقرأ وعلیک أنزل؟ (أوکمال قال) (کیا حضور کو میں سُناؤں حالاںکہ آپ ہی پر تو قرآن اُترا ہے؟) فرمایا: ہاں، میں دوسرے کی زبان سے سننا چاہتا ہوں۔
آخر حضور ﷺ نے صحابی سے یہ درخواست کیوں کی؟ حالاں کہ سارا قرآن آں حضرت ﷺ کو حفظ تھا اور اس کے معانی بھی آپ ﷺ کے ذہن مبارک میں حاضر تھے۔ صرف اسی لیے کہ قرآن کے الفاظ سے حضور ﷺ کو عشق تھا اور دوسرے سے سننے میں بہ وجہ یکسوئی کے زیادہ مزہ آتا ہے۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ صرف الفاظِ قرآن بھی بدوں لحاظِ معنی کے مطلوب ومقصود ہیں۔
صاحبو! اس سے بڑھ کر الفاظ قرآن کا نفع اور کیا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ قرآن پڑھنے والے کی قراء ت کی طرف بہت توجہ فرماتے ہیں اور اس کو نہایت توجہ سے سنتے ہیں اس سے بھی الفاظ کا مقصود ہونا ظاہر ہے کیوں کہ قراء ت اور استماع الفاظ ہی کے متعلق ہے نہ کہ معانی کے۔
علاوہ ازیں اصل مقصود تمام طاعات سے قربِ حق ہے۔ حق تعالیٰ کے یہاں سے اولاً الفاظ آئے ہیں اور معانی ان کے تابع ہو کر آئے ہیں، پس الفاظ کو اللہ تعالیٰ سے قرب زیادہ ہوا۔ بفرض محال اللہ تعالیٰ کی طرف سے اگر ایسے الفاظ عطا کیے جاتے جن کے معانی بالکل قابلِ فہم نہ ہوتے تو بھی محبانِ خدا کے رقص کرنے کے لیے یہی بات کافی تھی کہ وہ محبوب کا عطیہ اور اس کا تحفہ ہے۔ کیوں کہ محبوب اگر عاشق کو کوئی چیز دے تو اس میں دولذتیں ہوتی ہیں: ایک لذت تو محبوب کے ہاتھ سے ملنے کی ہے۔ دوسری لذت اس چیز کے استعمال کرنے کی۔ پھر عشاق الٰہی کے لیے تو الفاظِ قرآن ہی رقص کے واسطے کافی تھے۔ اس لیے کہ وہ عطیہ محبوب ہے اور وہ اولاً بالذات ہم کو ملے ہیں گو ان میں معانی بھی نہ ہوتے۔ مگر معانی کے ساتھ دولذتیں جمع ہوگئیں، تو اب یہ کیوں کر ہوسکتا ہے کہ لذتِ معانی سے لذتِ الفاظ کو چھوڑ دیا جائے بلکہ دونوں لذتیں قابلِ لحاظ ہیں۔ اور الفاظ کی لذت اس لیے بہت زیادہ قابل لحاظ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اولاً آئے ہیں۔ گویا باعتبارِ قصد کے معانی اصل ہیں اور الفاظ ان کے تابع ہیں۔
غرض بعض جہات سے الفاظ کو زیادہ قرب ہے اور بعض جہات سے معانی کو زیادہ قرب ہے اور کوئی ایک دوسرے سے