سے پوچھا کہ مسیلمہ کے بارہ میں تمہارا کیا عقیدہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہم بھی وہی کہتے ہیں جو ہمارے پیغمبر کا ارشاد ہے۔ یہ سن کر آپﷺ نے فرمایا کہ اگر قاصد کا قتل جائز ہوتا تو میں تم دونوں کی گردن مارنے کا حکم دیتا۔ اس روز سے دنیا میں یہ اصول مسلم اور زبان زد خاص وعام ہوگیا کہ قاصد کا قتل جائز نہیں۔ آپﷺ کے اس ارشاد گرامی سے یہ بھی ثابت ہوا کہ جس طرح جھوٹے نبی واجب القتل ہیں۔ اسی طرح ان کو سچا نبی ماننے والے بھی گردن زدنی ہوتے ہیں۔ حضرت سیدموجوداتﷺ نے اس چٹھی کا یہ جواب لکھوایا۔ ’’من جانب محمد رسول اﷲ بنام مسیلمہ کذاب۔ سلام اس شخص پر ہو جو ہدایت کی پیروی کرے۔ اس کے بعد معلوم ہو کہ زمین اﷲ کی ہے۔ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا مالک بنا دیتا ہے اور عاقبت کی کامرانی متقیوں کے لئے ہے۔‘‘
اس کے چند ہی روز بعد آفتاب رسالت رحمت الٰہی کے شفق میں مستور ہو گیا اور امیرالمؤمنین حضرت ابوبکر صدیقؓ نے عنان خلافت ہاتھ میں لی۔ حضرت صدیق اکبرؓ نے مسیلمہ کی سرکوبی کے لئے پہلے حضرت عکرمہؓ بن ابی جہل کی سرکردگی میں کچھ فوج یمامہ کی طرف روانہ فرمائی اور اس کے متعاقب شرحبیل بن حسنہ کو کچھ سپاہ دے کر بغرض کمک روانہ فرمایا۔ حضرت عکرمہؓ نے حالات پر قابو پائے اور ماحول کا کافی مطالعہ کئے بغیر نہایت عجلت کے ساتھ شرحبیل کی آمد سے پہلے ہی لڑائی چھیڑ دی۔ نتیجہ یہ ہواکہ عکرمہؓ کو ہزیمت ہوئی۔ مسیلمہ اور اس کے پیرو فتح کے شادیانے بجاتے میدان جنگ سے واپس ہوئے۔
اب امیرالمومنین حضرت صدیق اکبرؓ نے سیف اﷲ خالد بن ولیدؓ کو ایک لشکر گراں کے ساتھ مسیلمہ کے مقابلہ میں جانے کا حکم دیا اور وہ دارلخلافت سے بادوبرق کی سی تیزی کے ساتھ یمامہ کو روانہ ہوئے۔ اس اثناء میں حضرت عکرمہؓ کی طرح شرحبیل نے شتاب زدگی سے کام لے کر حضرت سیف اﷲ کی آمد سے پہلے ہی مسیلمہ کی حربی قوت کا اندازہ کئے بغیر مرتدین بنو حنیفہ سے مقابلہ شروع کر دیا۔ جس میں انہیں بھی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ جب حضرت خالدؓ کو مسلمانوں کی مکرر ہزیمت کا علم ہوا تو شرحبیل کو سخت ملامت کی اور فرمایا ہماری آمدکا انتظار کئے بغیر کیوں پیش دستی کی تمہاری عجلت پسندی کا نتیجہ یہ ہے کہ دشمن کی جمعیت پہلے سے بھی فزوں تر ہوگئی ہے اور اس کے حوصلے بڑھ گئے ہیں۔
جب مسیلمہ کو معلوم ہوا کہ اسلام کے نامور سپہ سالار خالدؓ بن ولید اس کی سرکوبی کے لئے آپہنچے تو اس نے بھی اپنے پیروؤں کو عقرباء کے مقام پر لاجمع کیا۔ مسیلمہ کی طرف سے مجاّعہ بن