تشریح
اس حدیث میں حضورﷺ نے اپنے چھ نام اور دو عظیم الشان صفتیں بیان فرمائی ہیں۔ ناموں کی تشریح اوپر بیان ہوچکی ہے اور آئندہ انشاء اﷲ تعالیٰ بیان ہوگی۔ مگر مندرجہ ذیل الفاظ قابل غوروخوض ہیں۔
۱… ’’انا رسول الملحمۃ‘‘ میں رسول جہاد ہوں فرما کر فیصلہ ہی فرما دیا کہ میں بہادری اپنی کامیابی خیال کرتا ہوں۔ اور میں مجاہد رسول ہوں۔ کفروظلم کی گھٹائیں مجھ کو مرعوب نہیں کرسکتیں۔ کوئی جابر اور ظالم حاکم میرے الہام کو نہیں بدل سکتا۔ میں الہام الٰہی کھلے طور سے ڈنکے کی چوٹ پر علانیہ دنیا کے سامنے پیش کرتا ہوں۔ یہ خانہ ساز نبوت نہیں جو ذلیل وکافر حکومت کے خود ساختہ پودے کی طرح اپنے الہام بند کردوں جیسے مرزا غلام احمد نے مسٹر ڈوئی (جو انگریز عیسائی مجسٹریٹ تھا) کے ڈرانے سے بعض الہامات کی اشاعت سے توبہ کرلی تھی۔ غرضیکہ خدائی الہامات کبھی اور کسی صورت میں بھی بند نہیں ہوتے۔اور یہی نبیوں کی صداقت کا کھلا ہوا راستہ اور نشان ہے۔
۲… ’’بعثت بالجہاد‘‘ بھیجا گیا ہوں میں ساتھ جہاد کے، فرما کر کتنا صاف اور صریح فیصلہ فرما دیا ہے کہ کسی جھگڑے کی ضرورت ہی نہیں۔ جہاد فرض ہے اورحضور اپنی زندگی میں جہاد کرتے رہے۔ جہاد فرض ہی رہا ہے کیونکہ آیت ’’الیوم اکملت لکم دینکم…الخ‘‘ نازل ہوئی اور شرع محمدی مکمل ہوگئی۔ حضور اپنی مکمل شریعت زمین پر چھوڑ کر دنیا سے رحلت فرماگئے۔ مسئلہ جہاد سچی اور الہامی کتاب قرآن پاک تفسیر پاک احادیث نبوی میں بکثرت موجود ہے۔ دین کامل ومکمل ہے تو پھر کسی نبی کی ضرورت ہی کیا۔ جو آئے اور قوموں کو اپنے نئے الہام سنائے۔ جب قرآن پاک ہی اسلامی تعلیم کامل ومکمل ہونے کا اعلان کررہا ہے اور وہ قیامت تک اپنی ہی تعلیم پیش کرنے کا ذمہ لے چکا ہے تو پھر اور کسی خطبہ الہامیہ یا حقیقت الوحی کی ضرورت کیا؟ جب کہ ہر مسلمان جانتا ہے کہ قرآن پاک کی تعلیم قیامت تک رہے گی اورقرآن پاک منسوخ نہ ہوگا تو مسئلہ جہاد کیونکر منسوخ ہوسکتا ہے؟ جیسا کہ فرقہ مرزائیہ کا خیال ہے ۔ غرضیکہ یہی قرآن شریف اور یہی سچا رسولﷺ رہتی دنیا تک اپنی نورانی شعاعیں اس دنیا میں پھیلا کر ذرہ ذرہ کو منور کرتے رہیں گے۔ ہاں ڈاکو آئیں گے مگر ذلیل ہوں گے۔
آپﷺ پر نبوت ورسالت کا دروازہ بند ہے … سولہویں حدیث
’’عن انس قال قال رسول اﷲﷺ ان الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی۔‘‘ (رواہ الترمذی واحمد بن کثیر ج۸ ص۶۹۰)