سیس کا قتل
سیس نے محاصرہ کی شدت سے تنگ آکر ہتھیار ڈال دئیے اوراپنے تئیں بلاشرط خازم کے سپرد کر دیا۔ استادسیس اپنے بیٹوں سمیت گرفتار ہوگیا۔ سیس تو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ معلوم نہیں اس کے بیٹوں کا کیا حشر ہوا۔ خازم نے فی الفور مہدی کے پاس مژدۂ فتح لکھ بھیجا۔ جونہی یہ بہجت افزاء خبر مہدی کے پاس پہنچی اس نے اپنے باپ خلیفہ منصور کے پاس فتح ونصرت کا تہنیت نامہ لکھا۔ یاد رہے کہ یہی مہدی خلیفہ ہارون رشید کا باپ تھا۔ جو منصور کی رحلت پر خلیفۃ المسلمین ہوا۔ کہتے ہیں کہ استاد سیس خلیفہ مامون کا نانا یعنی مراجل مادر ماموں کا باپ تھا اور اس کا بیٹا غالب جس نے فضل بن سہل برمکی کو قتل کیا تھا خلیفہ مامون (بن ہارون رشید) کا ماموں تھا۔
(تاریخ ابن خلدون، تاریخ ابن جریر طبری، تاریخ کامل ابن اثیر)
۱۱… حکیم مقنع خراسانی
حکیم مقنع کے نام میں اختلاف ہے۔ اکثر مؤرخین نے عطاء لکھا ہے اور بعض نے ہشام یا ہاشم بتایا ہے۔ حکیم کے لقب سے مشہور تھا۔ مرو کے پاس ایک گاؤں میں جس کو ’’کازہ کیمن دات‘‘ کہتے تھے، ایک غریب دھوبی کے گھر پیدا ہوا۔ اس کی پیدائش کے وقت کسی کو کیا خبر تھی کہ ایک دن یہی غریب دھوبی کا لڑکا تاریخ عالم کے صفحات پر شہرت دوام کا خلعت حاصل کرے گا۔ نہایت طباع وذہین تھا۔ اپنا آبائی پیشہ چھوڑ کر علم وفضل کی طرف متوجہ ہوا۔
مقنع نے اپنی تمام بے سروسامانیوں کے باوجود علوم نظریہ میں وہ درجہ حاصل کیا کہ نواح خراسان میں کوئی شخص اس کی ہمسری کا دعویٰ نہیں کر سکتا تھا۔ خصوصاً علم بلاغت، حکمت وفلسفہ، شعبدہ وحیل، طلسمات وسحرا ورنیرنجات میں سرآمد روزگار تھا۔ اس نے اپنی جودت طبع سے عجیب وغریب ایجاد کیں اور صنائع وبدائع کے ذریعہ سے بہت جلد آسمان شہرت پر چمکنے لگا۔ لیکن اس کی خلقت میں ایک ایسا عیب تھا جس کی وجہ سے اس کی مقبولیت میں گونہ فرق پڑتا تھا۔ وہ یہ کہ نہایت کریہہ المنظر، پست قامت، حقیر اور کم رو شخص تھا اور اس پر طرہ یہ کہ واحد العین تھا۔ یعنی اس کی ایک آنکھ کانی تھی۔ جسے دیکھ کر دلوں میں اس کی طرف سے وحشت ونفرت پیدا ہوتی تھی۔
مقنع اس عیب کے چھپانے کے لئے ایک چمکدار مصنوعی چہرہ اپنے منہ پر چڑھائے رکھتا تھا اور بغیر اس نقاب کے کسی کو اپنی شکل نہیں دکھاتا تھا۔ اس تدبیر سے اس نے لوگوں کی نفرت کو گرویدگی سے بدل دیا اور اسی نقاب کی وجہ سے لوگوں میں مقنع (نقاب پوش) مشہور ہوگیا۔ چہرہ