اسود کی گردن اور منڈی جا پکڑی اور بڑی پھرتی سے مروڑ کر اس کی گردن توڑ دی اور اسے آناً فاناً بستر پر ہلاک کر دیا۔
اسود کی ہلاکت کے بعد ایل ایمان نے اس کے پیروؤں اور ہوا خواہوں کو مغلوب کر کے چںد ہی روز میں یمن کی حکومت بحال کر لی۔ شہر بن باذانؓ کی جگہ حضرت معاذ بن جبل انصاریؓ صنعاء کے حاکم قرار پائے۔ سید دو جہاںﷺ نے وحی الٰہی سے اطلاع پاکر فرمایا تھا کہ اسود فلاں رات اور فلاں وقت مارا جائے گا۔ چنانچہ جس وقت وہ قعر عدم میں پہنچا، اس صبح کو مخبر صادقﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ آج رات اسود مارا گیا۔ صحابہ عرض پیرا ہوئے۔ یارسول اﷲ! کس کے ہاتھ سے ہلاک ہوا؟ فرمایا ایک مسلمان کے ہاتھ سے جو ایک بابرکت خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ پوچھا گیا کہ اس کا نام کیا ہے؟ تو آپﷺ نے فرمایا کہ فیروز دیلمی۔
چند روز کے بعد جب یمن کا قاصد اسود کے مارے جانے، اسلامی فرمانروائی کے بحال ہونے کی خبر لے کر مدینۃ الرسول پہنچا تو اس وقت حضرت سرور عالم وعالمیان علیہ الصلوٰۃ والسلام رحمت الٰہی کے آغوش میں استراحت فرماچکے تھے اور امیرالمؤمنین حضرت ابوبکر صدیقؓ نے مسند خلافت کو اپنے مبارک قدموں سے زینت بخشی تھی۔ چنانچہ حضرت صدیق اکبرؓ کو اپنے عہد خلافت میں سب سے پہلی جو بشارت ملی وہ اسود ہی کے قتل کا مژدہ تھا۔ اسودی فتنہ کے تفصیلی حالات معلوم کرنے کے لئے راقم السطور کی کتاب ’’ائمہ تلبیس ص۸تا۱۶‘‘ کی طرف رجوع فرمائیے۔
۲… مسیلمہ کذاب
جب فخر بنی آدم حضرت احمد مجتبیٰﷺ کی رسالت کا غلغلہ اقصائے عالم میں بلند ہوا تو قبیلہ بنو حنیفہ نے قبول اسلام کے بعد ایک وفد مدینہ منورہ بھیجا۔ مسیلمہ بھی اس وفد میں شریک تھا۔ وفد کے دوسرے ارکان کی طرح مسیلمہ نے بھی آپﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ مسیلمہ ذاتی وجاہت اورقابلیت کے لحاظ سے اپنے قبیلہ میں ممتاز اور طلاقت لسانی اور فصاحت وانشاپردازی میں اقران واماثل میں ضرب المثل تھا۔ اس لئے اس نے بیعت کرنے کے بعد بارگاہ نبوت میں درخواست کی کہ حضورﷺ مجھے اپنا خلیفہ وجانشین مقرر فرماویں۔ یہ درخواست آپﷺ پر شاق گذری۔ اس وقت کھجور کی ایک ٹہنی آپﷺ کے سامنے پڑی تھی۔ آپﷺ نے فرمایا دیکھو مسیلمہ! اگر تم خلافت کے بارہ یہ شاخ خرما بھی مجھ سے طلب کرو تو میں تمہاری خواہش پوری نہیں