کروں گا۔ مسیلمہ متمنی تھا کہ آنحضرتﷺ اسے اپنی نبوت میں شریک بنالیں۔ لیکن آپﷺ کے اس حق پژوہانہ جواب نے اس کے نخل امید کو بالکل خشک کر دیا۔
جب مسیلمہ ادھر سے مایوس ہوا تو بوقت مراجعت اس کے دل میں خود نبی بننے کے خیالات موجزن ہوئے اور اپنے قبیلہ میں پہنچ کر لوگوں سے کہنے لگا کہ جناب محمد رسول اﷲ (علیہ الصلوٰۃ والسلام) نے اپنی نبوت میں اسے بھی شریک کر لیا ہے اور اپنی من گھڑت وحی والہام کے افسانے سنا سنا کر لوگوں کو راہ حق سے منحرف کرنے لگا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بعض زود اعتقاد لوگ سرور انبیائﷺ کی نبوت کے ساتھ مسیلمہ کی نبوت کے بھی قائل ہو گئے۔
جب مسیلمی اغوا کوشیوں کی اطلاع آستان نبوت میں پہنچی تو حضور سید المرسلینﷺ نے قبیلہ بنو حنیفہ کے ایک ممتاز رکن رحّال بن عنفوہ کو جو نہار کے لقب سے مشہور تھا اس غرض سے یمامہ روانہ فرمایا کہ مسیلمہ کو سمجھا بجھا کر راہ راست پر لائے۔ مسیلمہ بڑا لسّان اور خوش بیان تھا۔ رحال نے مسیلمہ کو راہ راست پر لانے کی بجائے الٹا اس کا اثر قبول کر لیا اور سرور کائناتﷺ کے ساتھ مسیلمہ کی بھی نبوت کا اقرار کر کے اپنی قوم سے بیان کیا کہ خود جناب محمد رسول اﷲ (علیہ الصلوٰۃ والسلام) فرماتے تھے کہ مسیلمہ نبوت میں میرا شریک ہے۔ بنو حنیفہ نے اس کی شہادت پر وثوق کر کے مسیلمہ کی نبوت تسلیم کر لی اور سارا قبیلہ اس کے دام ارادت میں پھنس کر مرتد ہو گیا۔
کچھ دنوں کے بعد بنو حنیفہ کا ایک اور وفد مدینۃ الرسول گیا۔ ان لوگوں کو مسیلمہ کی تقدیس وطہارت میں بڑا غلو تھا۔ یہ لوگ مسیلمہ کے شیطانی الہامات کو صحابہ کرامؓ کے سامنے بڑے فخر سے وحی الٰہی کی حیثیت سے پیش کر رہے تھے۔ جب حضرت خیرالانامﷺ کو ارکان وفد کی اس ماؤف ذہنیت کا علم ہوا اور آپﷺ نے یہ بھی سنا کہ بنو حنیفہ نے اسلام سے منحرف ہوکر مسیلمہ کا نیا طریقہ اختیار کر لیا ہے تو حضورﷺ نے ایک خطبہ دیا۔ جس میں حمد اور ثنائے الٰہی کے بعد فرمایا کہ مسیلمہ ان تیس مشہور کذابوں میں سے ایک کذاب ہے جو دجال اعور سے پہلے ظاہر ہونے والے ہیں۔ اس دن سے اہل ایمان مسیلمہ کو مسیلمہ کذاب کہنے لگے۔
کچھ مدت کے بعد مسیلمہ نے کمال جسارت وبیباکی کے ساتھ حضرت فخرالانبیائﷺ کے نام ایک خط روانہ کیا جس میں لکھا تھا۔ ’’مسیلمہ رسول اﷲ کی طرف سے محمد رسول اﷲ کے نام۔ معلوم ہواکہ امر نبوت میں میں آپ کا شریک کار ہوں۔ عرب کی سرزمین نصف ہماری (یعنی بنو حنیفہ کی) اور نصف قریش کی ہے۔ لیکن قوم قریش زیادتی اور بے انصافی کر رہی ہے۔‘‘ اور یہ مکتوب اپنی قوم کے دو شخصوں کے ہاتھ مدینہ منورہ روانہ کیا۔ آپﷺ نے ان دو قاصدوں