آپ کے بعد خلفاء ہوں گے … چھبیسویں حدیث
’’عن ابی ہریرۃؓ عن النبیﷺ قال کانت بنو اسرائیل تسوسہم الانبیاء کلمّا ہلک نبی خلفہ نبی وانہ لا نبی بعدی وسیکون خلفاء فیکثرون۔‘‘ (رواہ البخاری، مسلم، مشکوٰۃ ص۳۳۰، کتاب الامارۃ، الفصل الاوّل ص۳۲۰، قدیمی کتب خانہ)
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے وہ رسول خداﷺ سے روایت کرتے ہیں (رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ) بنی اسرائیل کی سیاست کو ان کے انبیاء سے زینت دی جاتی تھی جب کبھی بھی کوئی انتقال فرماتا تھا تو اس کا خلیفہ ان کا نبی ہوتا۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں اور خلفاء بہت ہوں گے۔
تشریح
بنی اسرائیل میں ہر نبی کا خلیفہ نبی ہی ہوا کرتا تھا۔ اب حضورﷺ کے بعد چونکہ نبوت کا دروازہ بند ہے اس لئے حضور فرماتے ہیں کہ میرے بعد خلفاء ہوں گے۔ اور بہ کثرت ہوں گے۔ حضورﷺ نے ان خلفاء کے لئے بھی ارشاد فرمایا ہے کہ:
’’لایزال اﷲ یغرس فی ہذا الدین غرساً یستعملہم فی طاعتہ‘‘{یعنی اﷲ ہمیشہ اس دین محمدی میں ایسے درخت لگاتا رہے گا جن سے اپنی اطاعت کے کام لے۔}
انہیں خلفاء کے لئے حضورﷺ نے دعا بھی فرمائی جو درج ذیل ہے۔
دعا محمدی… ’’اللّٰہم ارحم خلفائی وقلنا یا رسول اﷲ من خلفاء ک؟ (قال) الذین من بعدی الذین یروون احادیثی وسننی ویعلمونہا الناس‘‘
دیکھئے ’’جامع صغیر للامام السیوطی بحوالہ احتفال الجمہور‘‘{اے اﷲ! تو میرے خلفاء پر رحمت فرما! (جماعت صحابہ نے پوچھا کہ حضور آپ کے خلفاء کون لوگ ہیں؟) (حضور نے فرمایا) وہ لوگ جو میرے بعد آئیں گے اور میری حدیثیں اور سنتیں بیان کریں گے اور دوسروں کو سکھائیں گے۔}
حضورﷺکی شریعت وہی جو پیچھے چھوڑ گئے ہیں، قائم ودائم رہے گی اورکوئی بھی اسے نہ بدل سکے گا۔